1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صدر اوباما کی مسلم دنیا کے ساتھ نئے آغاز کی خواہش

امریکہ پر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی ابتداء کے بعد سے اب تک واشنگٹن کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات بداعتمادی سے عبارت رہے ہیں۔ اب صدر اوباما ان تعلقات میں ایک نئے آغاز کے خواہش مند ہیں۔

default

صدر اوباما کے ترکی میں استنبول کی نیلی مسجد کے دورے کے موقع پر لی گئی تصویر

امریکی صدر باراک اوباما آئندہ بدھ کے دن سے مشرق وسطیٰ اور یورپ کا کئی روزہ دورہ کررہے ہیں جس دوران وہ سعودی عرب اور مصر بھی جائیں گے اور دوسری عالمی جنگ کے حوالے سے فرانس اور جرمنی میں ہونے والی چند یادگاری تقریبات میں بھی حصہ لیں گے۔

netanjahu obama in washigton, 18.5.2009, antrittsbesuch

امریکی صدر چاہتے ہیں کہ اسرائیل مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل تسلیم کرے

اگلے ہفتہ مصر کے دورے پر امریکی صدر جب قاہرہ پہنچیں گے تو عرب مسلم تہذیب کا مرکز کہلانے والے اس شہر میں وہ ایک ایسی اہم تقریر کریں گے جس کا بنیادی پیغام یہ ہوگا کہ امریکہ مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نئے آغاز کا خواہش مند ہے۔

باراک اوباما اپنے دور صدارت کے پہلے دن سے یہ چاہتے ہیں کہ مغربی دنیا، خاص کر امریکہ کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں پہلے جیسا دو طرفہ اعتماد دیکھنے میں آئے اور مشرق وسطیٰ کا عشروں سے حل طلب مسئلہ بھی اب حل ہوجانا چاہئے۔

مصری دارالحکومت میں قیام کے دوران صدر اوباما کی ایک بہت اہم مصروفیت قاہرہ یونیورسٹی میں ان کا وہ خطاب ہوگا جس کی شریک میزبان اسلامی علوم کی تاریخی درس گاہ جامعہ الازہرہو گی۔ باراک اوباما اس بارے میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ا س خطاب میں ان کا واضح پیغام یہ ہوگا کہ امریکہ اسلامی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کس طرح لا سکتا ہے۔

Saudi-Arabien König Abdullah mit Karte

شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات میں صدر اوباما امریکی امن کوششوں کے لئے حمایت حاصل کریں گے

واشنگٹن کے دنیا بھر کے ایک بلین سے زائد مسلمانوں کے ساتھ عمومی تعلقات میں بہتری کی یہ شعوری کوشش صدر اوباما کی طرف سے اس وعدے کی تکمیل بھی ہو گی جس میں اس سال کے شروع میں اپنی صدارتی حلف برداری کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ مسلم دنیا کے ساتھ مل کر باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے کی طرف بڑھنے کے لئے ایک نئے مشترکہ راستے کے متلاشی ہیں۔

اپنی ذاتی زندگی میں جزوی طور پر اسلامی خاندانی پس منظر کے حامل امریکی صدر مصر پہنچنے سے پہلے آئندہ بدھ کو سعودی عرب جائیں گے جہاں شاہ عبداللہ کے ساتھ اپنی بات چیت میں وہ بین الاقوامی سطح پر امن کی امریکی کوششوں کے لئے سعودی عرب کی تائید وحمایت حاصل کرنا چاہیں گے۔

واشنگٹن کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لئے امریکی صدر اوباما کی کوششوں سے متعلق اپنے تجزیاتی جائزوں میں متعدد خبررساں اداروں نے لکھا ہے کہ باراک اوباما نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں یہ امید پیدا کی ہے کہ امریکہ ان کی رنجشوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔ ان جائزوں میں کہا گیا ہے کہ یہ بڑی اچھی پیش رفت ہے مگر اس کے لئے امریکی صدر کو قاہرہ میں جمعرات کو اپنے خطاب کے بعد یہ عملی ثبوت بھی دینا ہوں گے کہ امریکی پالیسی اور باقی ماندہ دنیا کے بارے میں امریکی نقطہ نظر واقعی بدل رہے ہیں۔

DW.COM