1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر اوباما کا بیان :مسئلہ کشمیر کےحل کی پیشکش

امریکی صدر اوباما نے اپنے حالیہ دورہء بھارت کے دوران جہاں بھارتی خواہش کے مطابق پاکستان پر تنقید سے گریز کیا وہیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ ان دونوں ملکوں پر اس مسئلے کا کوئی حل مسلط نہیں کر سکتا۔

default

باراک اوباما: دورہء بھارت کے دوران پاکستان کے حوالے سے محتاط رویہ

تاہم باراک اوباما نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی خواہش پر امریکہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ صدر اوباما کے اس بیان کو بھارت اور کشمیری رہنما اپنے اپنے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

واشنگٹن میں کشمیر امریکی کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر غلام نبی فائی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر اور خطے میں امن کو براہ راست امریکہ کی قومی سلامتی سے منسلک کیا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی نظر مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف ہے۔

ڈوئچے ویلے کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر فائی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو امریکہ کی قومی سلامتی سے منسلک کرنے کا مطلب ہے کہ افغانستان میں امریکہ کو پاکستان کی مکمل حمایت درکار ہے۔ اس لئے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان کی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فائی نے کہا کہ بھارت کے لئے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

Asif Ali Zardari

پاکستانی صدر آصف علی زرداری

انہوں نے کہا کہ یہ نشست حاصل کرنے کے لئے بھارت کو مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا کیونکہ بھارت نے ان قراردادوں پر دستخط کئے تھے۔

ڈاکٹر فائی نے کہا کہ امریکہ کی ثالثی تبھی ممکن ہوگی جب بھارت بھی اس پر رضا مند ہو لیکن بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو ہمیشہ ہی مسترد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر اوباما کی کشمیر کے حوالے سے کی جانے والی گفتگو سے یہ بات اب واضح ہوگئی ہے کہ کشمیر بھارت کا ’اٹوٹ انگ‘ نہیں بلکہ ایک عالمی تنازعہ ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ڈاکٹر فائی نے کہا کہ صدر اوباما کے دورے کے بعد اس سال کے آخر تک بھارت اور پاکستان کے مابین بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب کشمیر میں سرگرم مشترکہ جہاد کونسل کے رہنما سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ امریکہ کو ’’مسئلہ کشمیر سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ امریکی صدر صرف امریکی مفاد میں کشمیر کے حوالے سے کچھ باتیں کر کے پاکستان کو بہلا‘‘ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صدر اوباما کشمیر کے حوالے سے کوئی ایسا وعدہ نہیں کریں گے، جس سے بھارت ناراض ہو۔ تاہم سید صلاح الدین نے کہا کہ اس دورے کے دوران یہ ایک بات ضرور ہوئی ہے کہ ’’کم از کم مسئلہ کشمیر کو عالمی تنازعہ تسلیم کر لیا گیا۔‘‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کو افغانستان کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں پاکستان کی مددکی ضرور ت ہے تو پھر امریکہ کو کھل کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی۔

امریکی صدر نے اپنے حالیہ دورہء بھارت میں گو پاکستان کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا مگر حالیہ دنوں میں صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ملاقات میں واشنگٹن کو یہ پیغام ضرور دے دیا گیا کہ اسٹریٹیجک معاملات،مسئلہ کشمیر اور دہشت گردی کی خلاف عالمی جنگ میں پاکستانی فوج اور حکومت کی پالیسی میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس