1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر اوباما اس ماہ ہیروشیما کا دورہ کریں گے

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما اس مہینے کے آخر میں جاپان کے شہر ہیروشیما کا تاریخی دورہ کریں گے۔ اس شہر پر امریکا نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ایٹم بم گرایا تھا۔

امریکی صدر باراک اوباما جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے کے ہمراہ ہیروشیما کا دورہ کریں گے۔ اوباما ویتنام کا دورہ کرنے کے بعد جاپان میں منعقد ہونے والی جی سیون سمٹ میں شریک ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، ’’صدر اوباما کا دورہ ہیروشیما، دنیا کو ہتھیاروں سے پاک اور امن و سلامتی سے بھرپور بنانے کے ان کے عہد کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘ اوباما، ہیروشیما کی یاد گار پر جانے والے پہلے امریکی صدر ہوں گے۔

تاہم وائٹ ہاوس نے گذشتہ ہفتے یہ بیان بھی دیا تھا کہ اوباما امریکا کی جانب سے 6 اگست 1945 میں ہیرو شیما پر ایٹمی بم گرانے پر کوئی معذرت نہیں کریں گے۔ اس ایٹمی حملے نے لمحوں میں ہزاروں لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیا تھا اوراسی سال کے آخر تک کل ایک لاکھ 40 ہزار افراد بمباری کے نتیجے میں آنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بم گرائے جانے کے سات عشروں بعد ہیروشیما کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے یادگار پر پھول چڑھائے تھے۔ کیری بھی جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے جاپان گئے تھے۔ جان کیری نے اس موقع پر کہا تھا کہ یاد گار پر آنا ان کے لیے ایک ایسا تجربہ تھا، جس نے ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔

جاپان ایک عرصے سے عالمی رہنماؤں کو ہیرو شیما اور ناگاساکی آنے کی دعوت دیتا رہا ہے تاکہ وہ ایٹمی بم کی تباہ کاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں میں حصہ لیں۔

چند رہنماؤں کو اس حوالے سے تشویش رہی ہے کہ اوباما کے اس دورے کو ہیروشیما پر سات عشرے پہلے گرائے گئے ایٹم بم کی معافی کے طور پر نہ لیا جائے۔

امریکی صدر کا یہ دورہ ان کے سیاسی مخالفین اور امریکی فوج میں ان چند افراد کی ناراضی کا سبب بھی بن سکتا ہے جن کے پیشرو بم گرانے کے صدارتی احکامات بجا لائے تھے۔