1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدام دہشت گردوں کو مار کر اچھا کام کر رہا تھا، ٹرمپ

امریکی صدارت کے لیے ری پبلکن پارٹی کی طرف سے متوقع امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر سابق عراقی حکمران صدام حسین کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدام عراق میں دہشت گردوں کو مار کر اچھا کام کر رہے تھے۔

امریکی صدارت کی دوڑ میں شامل ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ نے آج چھ جولائی بدھ کے روز جنوبی کیرولائنا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیرہ برس قبل امریکا اور اتحادی فوجوں نے عراق کو غیر مستحکم کر کے غلطی کی اور اسی غلطی کی وجہ سے دولت اسلامیہ جیسے شدت پسند گروہ کو پنپنے کا موقع ملا۔

عراق میں صدام حکومت کے خاتمے کے وقت امریکا میں بُش کی حکومت تھی جن کا تعلق ٹرمپ ہی کی ری پبلکن پارٹی سے تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت عراق پر حملے کی حمایت کی تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’وہ (صدام حسین) بُرا آدمی تھا، بہت بُرا انسان تھا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں اس نے کیا اچھا کام کیا؟ اس نے دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور یہ کام اس نے بہت اچھے طریقے سے کیا۔‘‘

اس سے پہلے گزشتہ برس بھی ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں غیر متوقع طور پر سابق عراقی صدر صدام حسین اور لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کی بالواسطہ تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر قذافی اور صدام زندہ ہوتے تو مشرق وسطیٰ کی حالت یہ نہ ہوتی جو آج ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو ’دہشت گردوں کی ہارورڈ یونیورسٹی‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا، ’’صدام نے انہیں (دہشت گردوں کو) نہ حقوق دیے اور نہ ہی ان سے مذاکرات کیے بلکہ انہیں ختم کر دیا جب کہ آج عراق دہشت گردوں کی ہارورڈ یونیورسٹی بن چکا ہے۔‘‘

امریکا کی صدارتی دوڑ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی تقریباﹰ یقینی امیدوار ہلیری کلنٹن کی جانب سے ٹرمپ کے بیان پر براہ راست کوئی بیان تو جاری نہیں کیا گیا تاہم ہلیری کلنٹن کے سینیئر پالیسی ایڈوائزر جیک سالیوَن نے ٹرمپ کی جانب سے ہزاروں انسانوں کے مبینہ قتل میں ملوث سابق عراقی آمر کی تعریف کرنے پر شدید تنقید کی گئی۔

کلنٹن کے پالیسی ایڈوائزر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا، ’’آج ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر صدام حسین کو دہشت گردوں کو ہلاک کرنے والا قرار دیا اور اپنے لوگوں کو حقوق نہ دینے پر بھی صدام کی تعریف کی گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صدام حسین کی حکومت دنیا بھر میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی تھی۔‘‘

ری پبلکن پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کے بیان پر تنقید کی ہے۔ ری پبلکن پارٹٰی ہی سے تعلق رکھنے والے امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان کا کہنا تھا کہ صدام حسین بیسویں صدی کے بدترین حکمران تھا جو اپنے ہی لوگوں کے قتل عام اور نسل کشی میں ملوث تھا۔

ویڈیو دیکھیے 01:33

ڈونلڈ ٹرمپ کو سرمایہ کہاں سے ملتا ہے؟

Audios and videos on the topic