1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدام حسین کے خلاف ایک نئے مقدمہ کا آغاز

آج بغداد کی ایک عدالت میں صدام حسین کے خلاف ایک نئے مقدمے کی کاروائی کا آغاز ہوا جس کے تحت ان پر1980 کی دہائی کے اواخر میں انفال نامی کاروائی کے دوران ہزاروں کردوں کے قتل عام کا الزام ہے۔

default

صدام حسین پر اس کاروائی کے دوران کردوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کا بھی الزام ہے جس میںخاص طور پر ان کے ایک کزن کو بھی کہ جو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت کی وجہ سے علی کیمیکل کے نام سے معروف ہے ، شریک جرم قرار دیا گیا ہے۔

آج کے مقدمہ کی سماعت چیف جج عبداللہ الامیری نے چار ججوں کے ہمراہ کی۔اور امید کی جارہی ہے کہ صدام حسین کے خلاف اس نئے مقدمے کی کاروائی چا رماہ تک جاری رہے گی۔ آج کی کاروائی میں صدام حسین پر یہ الزام لگایا گیا کہ ان کے حکم پر182,000 کردوں پر بمباری کی گئی، ان کے خلاف کیمیاوی گیس استعمال کی گئی اور انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

سرکاری وکیل جعفر الموسوی نے اس جرم کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انفال نامی اس کاروائی کے تحت وسیع کرد آبادی کے خلا ف عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔بوڑھے لوگوں ، عورتوں اور بچوں کو صرف کرد ہونے کے جرم میں قید میں ڈال دیا گیانہ یہ کہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہو۔

واضح رہے صدام حسین کے خلاف دجیل کے 148 شیعوں کے قتل عام کے مقدمے کی کاروائی ختم ہو چکی ہے اور عدالت کی طرف سے اس مقدمے کا فیصلہ 16 اکتوبر تک سامنے آنے کا امکان ہے۔جس میں الزام ثابت ہونے کی صورت میں صدام حسین کو موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد آج کے نئے مقدمے کی کاروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ایک امریکی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ اس کیس میں بھی صدام حسین کے خلاف نہایت ٹھوس دستاویزی ثبوت اور شہادتیں موجود ہیں۔

انہوںنے کہا اجتماعی قبروں کے ایسے دہشت ناک شواہد موجود ہیںجن سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کو صحراﺅں میں لے جا کر کس طرح اجتماعی طور پر قتل کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس میں120 سے 140 تک شہادتیں اور شکایات پیش کی جائیں گی۔جبکہ صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کا دفاع کرنے کے لئے 12 وکلاءکی ٹیم موجود ہو گی اور حکومت کی طرف سے 32 رکنی ماہرین کی ٹیم انفال نامی کاروائی کا نشانہ بننے والوں کی نمائندگی کرے گی۔

اس کیس میں علی کیمیکل کے علاوہ جن مزید افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں صدام حکومت کی ملٹری انٹیلی جینس کے ڈائریکٹر صابر الدری ، موصل کے سابق گورنر طاہر الانی، انفال ٹاسک فورس کے کمانڈر سلطان ہاشم ا لطائی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اس کیس میں صدام حسین کے مدافع وکیل یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ انفال علیحدگی پسند کرد جنگجووں کے خلاف جوابی کاروائی تھی جن کی 1980سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میںایران کی طرف سے مسلسل حمایت کی جاتی رہی ہے۔