1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدام حسین کی بھوک ہڑتال

سابق عراقی صدر صدام حسین نے اپنے تیسرے وکیل صفائی کے قتل کے بعد احتجاجی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔مقتول ماہر قانون خامس ال عبیدی صدام حسین کا دفاع کرنے والے اہم وکلاءمیں سے ایک تھے ۔ امریکی فوجی ذرائع نے بتایا کہ اس قتل کے بعد معزول عراقی حکمران کا دفاع کرنے والے وکلاءان کے خلاف مقدمے کا بائیکاٹ کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔

صدام حسین عدالت میں جج سے بحث کرتے ہوئے

صدام حسین عدالت میں جج سے بحث کرتے ہوئے

بغداد میں قیدیوں سے متعلقہ امور کے لئے ایک امریکی فوجی ترجمان نے بتایا کہ خامس ال عبیدی صدام حسین کا دفاع کرنے والی قانونی ماہرین کی ٹیم کے وہ تیسرے رکن ہیں جنہیں قتل کردیا گیا ہے۔ان کی ہلاکت کے بعد صدام حسین نے امریکی نگرانی میں کام کرنے والی ایک جیل میں اپنی بھوک ہڑتال کا آغاز جمعرات کی صبح ناشتے کے بعد کیا ۔ قبل ازیں بدھ کی شام سے اسی جیل میں زیرحراست صدام حسین کے چند سابقہ ساتھیوں نے بھی ہر روز تین مرتبہ کھانا کھانے سے انکار کردیا تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ69سالہ صدام حسین کی صحت اچھی ہے اور انہیں مکمل طبی سہولیات بھی حاصل ہیں۔ انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال کے آغاز کے بعد جمعرات کی دوپہرکھانا کھانے سے انکار کردیا۔ مجموعی طور پر یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ سابق عراقی ڈکٹیٹر نے کئی سال قبل دجیل میں 148شیعہ شہریوں کی ہلاکت کے سلسلے میں اپنے خلاف گذشتہ برس اکتوبر میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت مقدمے کی کارروائی کے شروع ہونے کے بعد کوئی بھوک ہڑتال کی ہے۔

صدام حسین کا دفاع کرنے والی وکلاءکی ٹیم کے سربراہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کے نائب خامس ال عبیدی کا قتل عراق میں حکومت نواز شیعہ ملیشیاﺅں کے ایماءپر کیا گیا اور اب وہ اور ان کے ساتھی وکلاءاس مقدمے کی آئندہ سماعت کے لئے 10 جولائی کے روز ہونے والی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔اس روز وکلاءدفاع کو عدالت میں صدام حسین کے حق میں اختتامی جرح کرنا ہے۔

امریکی پشت پناہی میں کام کرنے والی اور اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عراقی عدالت کے لئے خامس ال عبیدی کا قتل اس لئے بھی ایک بڑا دھچکہ ہے کہ وہ گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران قتل کردئے جانے والے صدام حسین کے تیسرے وکیل ہیں اورال عبیدی کے قتل سے پہلے انہیں ان کے گھر سے اغواءکرنے والے 20مسلح افرادعراقی وزارت داخلہ کے پولیس اہلکاروںکی یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔