1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدارتی نتائج کا اعلان اور پرتشدد واقعات شروع

صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعد کینیا کے صدر اہورو کنیاٹا نے عوام سے پرامن اور متحد رہنے کی اپیل کی ہے۔ نتائج سامنے آنے کے بعد اپوزیشن کے مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم نو افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے نیروبی سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے کی رات سے شروع ہونے والی احتجاجی مظاہرے ہفتے کی صبح بھی جاری رہے۔ ہفتے کے دن بھی نیروبی میں اپوزیشن کے حامیوں اوت سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ناقدین نے پہلے ہی ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ آٹھ اگست کو منعقد ہونے والے الیکشن کے نتائج کے بعد صدر اہورو کنیاٹا اور اپوزیشن رہنما رائلہ اوڈنگا کے حامی پرتشدد کارروائیوں پر اتر سکتے ہیں۔

کینیا میں الیکشن، سکیورٹی ہائی الرٹ

کینیا میں مفاہمت کے لئے گھانا کے صدر کی کوششیں

کینیاٹا پر لگے الزامات کے شواہد ناکافی

اوڈنگا کی نیشنل سپر الائینس کے حامیوں کے مطابق ان انتخابی عمل میں دھاندلی کی گئی ہے، اس لیے ان نتائج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اس الیکشن کی مانیٹرنگ کرنے والے متعدد ملکی اداروں نے کہا ہے کہ الیکشن شفاف اور غیرجانبدار طریقے سے منعقد کیے گئے۔ کینیا کے الیکشن کمیشن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پچپن سالہ کنیاٹا نے 54.3 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور یوں وہ دوسری مدت صدارت کے لیے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سن دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں بھی کنیاٹا کے مقابلے میں اوڈنگا ہی تھے۔ تب بھی اوڈنگا نے الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اوڈنگا اس سے قبل سن دو ہزار سات کے انتخابات میں بھی شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ اوڈنگا کے سیاسی اتحاد نے گزشتہ ہفتے ہونے والے الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے دو دنوں میں  سو سے زائد معصوم شہری مارے گئے ہیں۔ بہتر سالہ اوڈنگا نے گزشتہ ہفتے ہی کہہ دیا تھا کہ ہیکرز نے ووٹنگ سسٹم تک رسائی حاصل کر لی تھی۔

Kenias Staatschef Kenyatta gewinnt Präsidentschaftswahl (Picture-Alliance/dpa/AP/S. A. Azim)

صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعد کینیا کے صدر اہورو کنیاٹا نے عوام سے پرامن اور متحد رہنے کی اپیل کی ہے

دوسری طرف صدر کنیاٹا نے اپنی جیت کے اعلان کے بعد کہا، ’’ہم سب مل کر کام کریں گے۔ ہم سب اکٹھے ترقی کریں گے۔ ہم مل کر اس ملک کو آگے بڑھائیں گے۔ ہم سب مل کر اس قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ملکی اتحاد کو یقینی بنانے کے لیے اپیل بھی کی، ’’الیکشن آتے اور جاتے رہتے ہیں لیکن کینیا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیشہ دھیان رکھنا چاہیے کہ ہم سب بہن بھائی ہیں۔‘‘ کنیاٹا نے مظاہروں اور تشدد پر تبصرہ کرتے ہوئے درخواست کی، ’’ہمیں پرامن رہنا چاہیے، تشدد کی ضروت نہیں ہے۔‘‘

کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے کچھ علاقوں میں اپوزیشن کے حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ گیارہ اگست بروز جمعہ کی شب جب الیکشن کے حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا تو کئی علاقوں میں اوڈنگا کے حامیوں نے مظاہرے شروع کر دیے۔ اس دوران پرتشدد واقعات میں کم ازکم تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی بھی ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ سن دو ہزار سات کے الیکشن میں جب اوڈنگا کو شکست ہوئی تھی تو ان کے حامیوں نے ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ تب کئی ماہ تک جاری رہنے والے پرتشدد واقعات میں گیارہ سو افراد ہلاک جبکہ ساٹھ ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

DW.COM