1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدارتی انتخابات میں جنرل پرویز مشرف کی فتح

پاکستان میں الیکشن کمیشن کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے بھاری اکثریت کے ساتھ صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کی ہے لیکن ابھی اُنہیں سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کا انتظار کرنا ہو گا، جس کا تعلق صدارتی اُمیدوار کے طور پر اُن کی اہلیت سے ہے۔ مشرف نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں ڈالے گئے 257 میں سے 252 ووٹ حاصل کئے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی رکھنے والی تمام اپوزیشن جماعتوں نے اِن اِنتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ جہاں مشرف کے حا

پاکستانی صدرجنرل پرویز مشرف

پاکستانی صدرجنرل پرویز مشرف

�ی حلقے اِس کامیابی پر فتح کا جشن منا رہے ہیں، وہاں اپوزیشن نے اِن انتخابات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


مشرف نے اپنے مخالفین سے مفاہمت کی راہ اپنانے کی اپیل کی ہے۔ اُدھر امریکہ نے محتاط الفاظ میں پاکستان کو صدارتی انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دی ہے لیکن مشرف کی کامیابی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کر کے بظاہر باوردی مشرف کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کے حوالے سے اپنے وعدے کی لاج رکھی لیکن یہ بائیکاٹ بھی دراصل حکومت کے ساتھ طے ہونے والے اُسی سمجھوتے کا ایک حصہ تھا، جس کی روشنی میں قومی مصالحتی آرڈی نینس جاری کیا گیا ہے۔

اِس آرڈینینس کے ذریعے یکم اکتوبر 1986ء سے لے کر بارہ اکتوبر سن 1999ء تک تمام مبینہ بدعنوان سیاستدانوں اور عوامی عہدیداروں کو عام معافی دیدی گئی ہے۔ قومی احتساب بیورو نیب کے اختیارات بھی محدود بنا دئے گئے ہیں، اب نیب کسی سیاستدان کو گرفتار نہیں کر سکے گا۔

اِس آرڈی نینس کا سب سے زیادہ فائدہ الطاف حسین کی متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم کو ہو گا، جس کے کارکنوں کے خلاف 1986ء سے اب تک مختلف نوعیت کے 25 ہزار مقدمات قائم ہیں۔