1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صحافی بھی جنگی مجرم ہیں، جولیان آسانج

وکی لیکس کے بانی جولیان آسانج اور جمائما خان نے افغان جنگ خلاف لندن میں ہونے والے ایک مظاہرے کی قیادت کی ہے۔ دس برس پہلے برطانیہ اور امریکہ نے طالبان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔

default

جولیان آسانج

منتظمین کے مطابق ہفتے کے روز مرکزی لندن میں ہونے والے اس مظاہرے میں کم ازکم پانچ ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی ہے تاہم لندن پولیس کی جانب سے کوئی بھی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔ پاکستان میں تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق کرکٹر عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آپ یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، آیا دہشت گردی زیادہ خطر ناک ہے یا پھر دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ؟‘‘

جمائما خان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کے دس برس بعد بھی افغانستان خواتین کے لیے بدترین جگہ ہے۔ ان کے مطابق جس لحاظ سے بھی دیکھا جائے افغان مشن ناکام ہو چکا ہے۔

Untersuchungsausschuss Irak

جولیان آسانج کے مطابق میڈیا پر جھوٹی رپورٹوں کے تحت عوام کی ذہن سازی کی گئی اور پھر جنگوں کا آغاز کر دیا گیا

وکی لیکس کے بانی جولیان آسانج نے صحافیوں اور فوجیوں کا موازنہ جنگی مجرموں سے کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ جنگیں ان جھوٹوں کا نتیجہ ہیں، جو امریکی اور برطانوی عوام سمیت تمام یورپ اور دنیا کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے جنگی جرائم کا مرتکب ہونے والے کون ہیں ؟ جنگی مجرم صرف لیڈر اور فوجی نہیں بلکہ صحافی بھی ہیں۔‘‘

جولیان آسانج کے مطابق میڈیا پر جھوٹی رپورٹوں کے تحت عوام کی ذہن سازی کی گئی اور پھر جنگوں کا آغاز کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی اس میں برابر کے شریک ہیں۔

 جولیان آسانج کی ویب سائٹ وکی لیکس ہزاروں امریکی خفیہ سفارتی کیبلز شائع کر چکی ہے اسی وجہ سے انہیں  جون دو ہزار دس میں صحافت کے لیے Martha Gelhorn پرائز سے بھی نوازا کیا گیا تھا۔ امریکہ کے بعد افغانستان  میں سب سے زیادہ فوجی برطانیہ کے ہیں۔ ابھی تک افغان جنگ میں 382 برطانوی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق 57 فیصد برطانوی باشندے فوری طور پر افغانستان سے اپنے فوجیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: شامل شمس

DW.COM