1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن

آج دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمےکا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ دنیا کے بعض ممالک کی طرح پاکستان کا شمار بھی صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ترین ملک میں ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت ہر سال دو نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا دن منایا جاتا ہے۔ پیر کے روز ایک غیر سرکاری ادارے پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں دوہزار ایک سے لیکر رواں برس تک فرائض کی ادائیگی کے دوران ستتر صحافی اور صحافتی اداروں کے ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینتالیس صحافیوں کو ان کے صحافتی فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے دانستہ طور پر ہدف بنا کر قتل کیا گیا جبکہ باقی تمام خطرناک ڈیوٹیاں انجام دیتے ہوئے مارے گئے۔ مزید یہ پاکستان میں صحافیوں کے قتل کے صرف دو ایسے مقدمات ہیں جن میں مجرموں کو سزا سنائی گئی۔

پی پی ایف کی رپورٹ کے مطابق دو ہزار دو سے لیکر اب تک سب سے زیدہ اکیس صحافی بلوچستان میں قتل کیے گئے۔ دوسرا نمبر صوبہ خیبر پختوانخواہ کا ہے جہاں پر انیس صحافی ہلاک ہوئے اسے کےبعد سندھ میں پندرہ فاٹا میں نو پنجاب میں چار اور دارلحکومت اسلام آباد میں تین صحافی قتل ہوئے۔

اسی طرح صحافیوں کےخلاف اسی عرصے کے دوران تشدد کے سب سے زیادہ سندھ میں ایک سو اٹھائیس، اسلام آباد میں چھہتر،پنجاب میں تریسٹھ کے پی کے میں انچاس بلوچستان میں اکتالیس اور تئیس مقدمات فاٹا میں درج کیے گئے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے لیے نیشنل پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صحافی رہنما مطیع اللہ جان نے کہا کہ " حکمران کیوں ان طاقتوں کا احتساب نہیں کرتے جو صحافیوں کی آواز خاموش کرانے کے درپے ہیں؟ کیوں ہماری سپریم کورٹ کے تین اعلی جج صاحبان صحافی حامد میر پر حملے کے بعد قائم ہونے والے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ جاری نہیں کر رہے۔ اس لیے کہ یہ سب ان طاقتوں سے ڈرتے ہیں جو ہمارے معاشرے کو اندھا، بہرا اور گونگا بنا دینا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کے خلاف اس وقت تک جرائم کا خاتمہ ہوتا ممکن نظر نہیں آرہا جب تک صحافیوں کے خلاف تشدد کرنیوالوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔

اس موقع پر موجود ایک اور سینئیر صحافی ستار خان نے کہا کہ صحافیوں کو اپنی صفوں میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے لوگ ہیں جو اپنےمفادات کے طابع صحافیوں کے کاز کے لیے آواز نہیں اٹھاتے۔ انہوں نے کہا کہ "میں بطور اینکر اگر اپنے صحافی ساتھیوں پر ہونیوالے ظلم کے خلاف اس لیے آواز نہ اٹھاؤں کے میرے ٹی وی کا مالک سیٹھ یا اس کے ساتھی ناراض ہوں گے تو قصور میرا ہے۔ ہمارے اینکر ساتھیوں کو صرف اپنے تنخواہ اور مراعات کے پیکجوں کو بچانے کی بجائے اپنے ساتھیوں کی حفاظت کے بارے میں بھی سوچنا اور بولنا چاہیے۔"

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے، جہاں صحافیوں کے خلاف تشدد کے مقدمات کی سب سے زیادہ تعداد غیر حل شدہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان دنیا میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے اور صحافیوں کے لیے مشکل ہے کہ وہ ایک آزاد فضا ء میں کام کر سکیں"۔ دوسری جانب حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں صحافیوں کی ضلعی سطح پر پولیس کے ساتھ مل کر کمیٹیوں کی تشکیل بھی شامل ہے۔