1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صحافیوں کے تحفظ کا مطالبہ کرنے والا بھارتی صحافی بھی گرفتار

مشرقی بھارت میں ایک ایسے صحافی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر پولیس پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ عشروں سے ماؤ نواز بغاوت سے متاثرہ ریاست چھتیس گڑھ میں صحافیوں کے تحفظ کا قانون نافذ کیا جانا چاہیے۔

Symbolbild Pressefreiheit

زیر حراست صحافیوں کی رہائی کے لیے رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کا ایک احتجاجی مظاہرہ، فائل فوٹو

نئی دہلی سے بدھ تئیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق بھارت کی مشرقی ریاست چھتیس گڑھ کو بالعموم اور اس کے بستار نامی خطے کو خاص طور پر کئی عشروں سے بائیں بازو کے ماؤ نواز باغیوں کی مسلح تحریک کا سامنا ہے۔

اس علاقے کی صورت حال پر قلم اٹھانے والے ایک بھارتی رپورٹر پربھت سنگھ نے سوشل میڈیا پر اپنے تبصروں میں پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ پربھت سنگھ نے مطالبہ کیا تھا کہ کوئی ایسا قانون بھی عملاﹰ نافذ کیا جانا چاہیے، جو مسلح بغاوت اور خونریزی کے شکار اس خطے میں نامہ نگاروں کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔

پربھت سنگھ کے اس حالیہ مطالبے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بھائی وشنو سنگھ نے آج بدھ کے روز ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ پربھت کو پولیس پیر اکیس مارچ کو رات گئے اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

وشنو سنگھ نے کہا، ’’پربھت سنگھ چھتیس گڑھ کے بدامنی اور مسلح بغاوت سے متاثرہ علاقے بستار سے رپورٹنگ کرتا ہے۔ پیر اکیس مارچ کو رات گئے پولیس اہلکار اسے اپنے ساتھ لے گئے اور منگل بائیس مارچ کو اسے ایک ملزم کے طور پر باقاعدہ ایک عدالت میں پیش بھی کر دیا گیا۔‘‘

پربھت کے بھائی وشنو کے مطابق سب سے انوکھی بات یہ ہے کہ پربھت پر جو فرد جرم عائد کی گئی ہے، اس کے مطابق وہ ’فحش مواد کی تشہیر‘ کا مرتکب ہوا تھا۔

Indien Maoisten Guerrilla

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کو عشروں سے ماؤ نواز باغیوں کی مسلح بغاوت کا سامنا ہے

بھارت کا جنوب مشرقی حصہ وہاں جاری کئی مختلف مسلح تحریکوں کی وجہ سے صحافیوں کے لیے ’کام کرنے کی بہت مشکل جگہ‘ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہاں سکیورٹی فورسز پر کسی بھی طرح کی تنقید کو اکثر باغیوں کے لیے حمایت سمجھا جاتا ہے۔

ریاست چھتیس گڑھ میں گزشتہ برس بھی دو مقامی صحافیوں کو گرفتار کر کیا گیا تھا اور وہ ابھی تک عدالتوں میں ان الزامات کے خلاف اپنا دفاع کر رہے ہیں کہ انہوں نے بائیں بازو کے ماؤ پرست باغیوں کی حمایت کی تھی۔

DW.COM