1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صحافیوں کی جبری ہجرت: ایران اور کیوبا سب سے آگے

'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یا سی پی جے نامی امریکی تنظیم کے مطابق گزشتہ بارہ ماہ میں ایران اور کیوبا کی حکومتوں نے سب سے زیادہ صحافیوں کو ملک بدر یا ہجرت پر مجبور کیا۔

default

سی پی جے کا ’لوگو‘

صحافیوں کے تحفظ سے متعلق اس امریکی تنظیم کے مطابق گزشتہ ایک سال میں سڑسٹھ صحافیوں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جن میں سے ایران اور کیوبا کے اٹھارہ اٹھارہ صحافی شامل ہیں۔ اس طرح کیوبا اور ایران کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ صحافیوں کو جبری ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ ان میں سے بعض صحافیوں کو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ملک چھوڑنا پڑا۔

سی پی جے کی جانب سے یہ اعداد و شمار ایک رپورٹ کی شکل میں ورلڈ ریفیوجی ڈے یا عالمی دن برائے مہاجرین کے موقع پر شائع کیے گئے۔

Ali Khamenei and Mahmoud Ahmadinejad Dossierbild 3

ایران میں ذرائع ابلاغ پر سخت گیر مذہبی رہنماؤں کا کنٹرول ہے

سی پی جے کے مطابق ان سڑسٹھ صحافیوں میں سے کوئی بھی اپنے وطن واپس لوٹنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ مذکورہ صحافیوں میں بائیس کا تعلق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے ہے، انیس کا تعلق شمالی اور جنوبی امریکہ کے ممالک سے ہے، انیس کا افریقہ اور ایک کا وسطی ایشیا سے ہے۔

سی پی جے کے مطابق یہ سڑسٹھ صحافی وہ ہیں جن کے بارے میں معلومات حاصل ہو پائی ہیں یا جن کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ ایسے صحافیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔

خیال رہے کہ ایران اور کیوبا آزادی اظہار پر قدغنوں کے حوالے سے خاصے بدنام تصور کیے جاتے ہیں۔ ایران میں مذہبی حکمران اور کیوبا کے کمیونسٹ حکام میڈیا اور صحافیوں پر حکومتی کنٹرول رکھتے ہیں اور ریاستی نظریات کے خلاف ان ممالک میں کوئی بات کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM