1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

صحافیوں، فنکاروں کے لیے این او سی کی شرط کے خلاف احتجاج

پاکستان میں سول سوسائٹی، صحافیوں ، اداکاروں اور غیر سرکاری تنظیموں نے اس حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت ان شعبوں سے منسلک افراد کو بیرون ملک سفر کے لیے وزارت داخلہ سے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔

default

راحت فتح علی خان

وزیرداخلہ رحمان ملک کی زیرصدارت حال ہی میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ صحافیوں، ادیبوں، اداکاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بیرون ملک خصوصاً بھارت جانے سے قبل ایک این او سی حاصل کرنا ہوگا۔ حکومت نے بظاہر یہ فیصلہ معروف فنکار راحت فتح علی خان کو بھارتی ٹیکس حکام کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد کیا۔

منگل کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشین (سیفما) کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وزارت داخلہ کے اس فیصلے کو فوراً واپس لے۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik

وزیرداخلہ کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

ان نمائندوں کے مطابق کوئی بھی جمہوری حکومت اس طرح کے یکطرفہ فیصلے نہیں کر سکتی جس کے براہ راست اثرات ہمسایہ ملکوں کے عوام پر ہوں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے صحافیوں کو این او سی سے استثنیٰ سے متعلق ایک سوال پر سیفما کے ایک مرکزی عہدےدار امتیاز عالم نے کہا کہ وزیرداخلہ کا یہ دعویٰ صرف زبانی ہے اور ابھی تک اس بارے میں کوئی تحریری حکم جاری نہیں کیا گیا۔

Rahat Fateh Ali Khan

بھارت میں پاکستانی فنکار وں کی محفل

انگریزی روزنامہ ‘‘ایکسپریس ٹریبیون ’’کے ایڈیٹر ضیاء الدین نے بھی وزیرداخلہ کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’رحمان ملک بولنے سے پہلے سوچتے نہیں اور ایک ان کی جو عادت ہے ہر کام میں ٹانگ اڑانے والی تو اس سے حکومت کے لیے زیادہ مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں بجائے اس کے کہ یہ مسئلے حل ہوں۔‘‘

سیفما کے ایک اور مرکزی عہدےدار سرمد منظور کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں طرف کی سول سوسائٹی کے نمائندے ویزا پالیسی میں نرمی کروانے کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حالیہ حکومتی فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات بھی اور زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ عوام کا عوام سے جو رابطہ ہے یہاں کے لوگ وہاں جاتے ہیں اور وہاں کے لوگ یہاں آتے ہیں ان میں ادبی لوگ ، لکھاری، صحافی اور اداکار وغیرہ شامل ہیں ان کے آنے جانے سے برف پگھلتی ہے اور دونوں حکومتوں پر تعلقات کی بہتری کے لیے دباؤ بھی پڑتا ہے۔‘‘

سول سوسائٹی کی ایک سرگرم رکن ماروی سرمد نے بھی اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں طرف کی اسٹیبلشمنٹ عوام کے عوام سے باہمی روابط اور آزادی اظہار پر پابندی لگانا چاہتی ہیں جو موجودہ دور میں کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وزارت داخلہ نے پیشگی اجازت نامے کی شرط واپس نہ لی تو اس کے خلاف احتجاج بھی کیا جائے گا۔

رپورٹ: شکور رحیم ،اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس