1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صالح سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا، امریکہ

واشنگٹن انتظامیہ نے کہا ہے کہ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کو علاج کے لیے امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے سےمتعلق خبریں غلط ہیں اور اس حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

default

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح

وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ امریکی حکام علی عبداللہ صالح کی درخواست پر غور کر رہے ہیں اور ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

انہوں نے یہ بیان نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر کے ردِ عمل میں دیا، جس میں ایک حکومتی عہدے دار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ صالح کو انٹری دے دی جائے گی۔

گزشتہ ویک اینڈ پر یمن میں پر تشدد کارروائیاں ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی تھیں جبکہ صالح نے یہ کہہ کر ایک تنازعہ کھڑا کر دیا تھا کہ وہ امریکہ جانا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ صالح کے دفتر سے صنعاء میں امریکی سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’خصوصی علاج‘ کے لیے امریکہ جانا چاہتے ہیں۔

بعد ازاں ٹائمز نے انتظامیہ کے نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن انتطامیہ صالح کی درخواست پر طویل بحث کے بعد ان کو نیویارک سٹی کے سفر کی اجازت دے دے گی۔

تاہم ارنسٹ کا کہنا ہے: ’’امریکی حکام صالح کو علاج کے واحد مقصد کے تحت ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے متعلق ان کی درخواست پر غور جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہیں اجازت دیے جانے سے متعلق ابتدائی رپورٹیں درست نہیں۔‘‘

9/11 Gedenken

صالح علاج کے لیے امریکہ جانا چاہتے ہیں

یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن انتظامیہ صالح کی درخواست کا حتمی فیصلہ کب کرے گی۔ امریکہ اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ فروری میں انتخابات تک یمن میں سیاسی تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے انجام پا جائے، جس کے بعد صالح نے اقتدار چھوڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ اسی صورت میں زیادہ ممکن ہے، جب صدر اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

تاہم صالح کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے پر اوباما انتظامیہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس پیش رفت کو ایک ایسے رہنما کو پناہ دینے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس پر اپنے اقتدار کے خلاف مظاہروں میں سینکڑوں ہلاکتوں کا الزام ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس