1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں‘

سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد عبوری مدت کے لیے نئے وزیر اعظم منتخب کرنے کے اعلان اور لاہور سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشت پر انتخابات کا موضوع پاکستانی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو ملکی عدالت عظمیٰ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد تیسرے روز بھی سوشل میڈیا پر ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

یکم اگست کو پاکستانی پارلیمان نیا وزیراعظم منتخب کرے گی

پاکستان کے آئندہ ’عبوری وزیر اعظم‘ شاہد خاقان عباسی کون ہیں؟

مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر سب سے مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے حامی زیادہ سرگرم دکھائی دے رہے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی بھی کسی حد تک سوشل میڈیا پر نمایاں طور پر سرگرم دکھائی دی۔ حسب معمول پی ٹی آئی اور نون لیگ کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ناشائستہ زبان میں اظہار رائے کیا گیا تاہم کچھ صارفین سیاسی موضوعات پر سنجیدہ گفتگو کرتے بھی دکھائی دیے۔

آج ٹرینڈ کرنے والے تین اہم ہیش ٹیگز میں ’شازش بے نقاب‘، ’ڈٹ جاؤ نواز شریف‘ اور ’یوم تشکر‘ نمایاں رہے۔

پہلے دونوں ہیش ٹیگ استعمال کرنے والے زیادہ تر صارفین ملک کی حکمران سیاسی جماعت اور نواز شریف کے حق میں ٹوئٹ کر رہے تھے۔

سازش بے نقاب ہیش ٹیگ استعمال کرنے والے زیادہ تر ٹوئٹر صارفین سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں جانب داری اور پس پردہ ممکنہ سازش کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ ایک صارف احمد بھٹی نے لکھا، ’صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں‘ جب کہ عمران شاہین نامی ایک صارف کا کہنا تھا، ’’ عزت و احترام تو آپ نے مشرقی پاکستان کے ووٹرز کا بھی نہیں کیا تھا. یاد ہے ناں؟‘‘

ٹوئٹر صارف عدیل علی خان کا کہنا تھا کہ عوام کی اکثریت نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی۔

عمر برنی نامی ایک صارف نے ’ڈٹ جاؤ نواز شریف‘ ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا، ’’عوام کے مینڈیٹ کی تضحیک برداشت نہیں کی جائے گی ۔۔۔ بحیثیت ووٹر ہمارا مذاق اڑایا گیا ہے۔‘‘

نہال ہاشمی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ 'پاکستانی قوم نے اپنے لیڈروں کو عزت دی، مگر اداروں نے انہیں رسوائی کے سوا کچھ نہ دیا، چاہے وہ بھٹو ہو یا نواز شریف‘۔

سلطان نامی ایک صارف کا کہنا تھا، ’’کب تک ووٹوں کو بوٹوں تلے روندا جائے گا، اب وقت ہے آئین کی بالادستی کے لیے۔‘‘

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے بھی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں لوگوں کو نواز شریف کا استقبال کرتے دکھایا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد میں نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے پر 'یوم تشکر‘ منا رہی ہے۔ ٹوئٹر پر بھی یہی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔

زیادہ تر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس سے اسلام آباد کی جانب روانہ کارکنوں کی تصاویر شیئر کی گئیں تاہم کئی انفرادی صارفین بھی اس جلسے میں شرکت کے بارے میں ٹوئٹس کرتے رہے، جیسا کہ ڈاکٹر ابیہا نامی خاتون صارف نے لکھا، ’’اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پریڈ گراؤنڈ جا رہی ہوں۔‘‘

شاہد خٹک نامی ایک ٹوئٹر صارف نے تحریک انصاف کے پرچم اٹھائے ہوئے خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’میاں صاحب یہ ہیں وه بہنیں جن کے بارے میں اپ نے کہا تھا کہ وه کیا کر رہی تھیں، اب تو پتہ چل گیا ہو گا کہ وه کیا کر رہی تھیں۔‘‘

دوسری جانب نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں اور اس ضمن میں اب پی ٹی آئی نے ’گو نواز گو‘ کے بجائے ’گو شہباز گو‘ کی تحریر کے ساتھ شرٹس تقسیم کرنا شروع کر دی ہیں۔

نواز حکومت کا خاتمہ: ’پاک چین اقتصادی راہداری خطرے میں نہیں‘

نواز شریف کی نااہلی کے بعد مستقبل کا پارٹی منظر، مشاورت جاری

DW.COM