1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

صارفین کی ذاتی معلومات، فیس بُک کا منصوبہ مؤخر

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بُک نے ایپلیکیشنز بنانے والے بیرونی ڈویلپرز کو اپنے صارفین کے موبائل فون نمبر اور گھروں کے پتوں تک رسائی دینے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔

default

فیس بُک نے گزشتہ جمعہ کو اپنے ڈویلپر بلاگ پر اعلان کیا تھا کہ ڈویلپرز کو صارفین کے موبائل فون نمبرز اور گھروں کے ایڈریسز تک رسائی دی جا رہی ہے۔ تاہم اس سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ نے اب یہ اعلان کیا ہے کہ یہ منصوبہ فی الحال روک دیا گیا ہے۔

فیس بُک کے ڈویلپرز ریلیشنز کے سربراہ ڈگلس پورڈی کا کہنا ہے، 'اس ویک اینڈ کے دوران ہمیں کچھ مفید تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن سے لوگوں کو واضح طور پر آگاہ کیا جا سکے گا کہ وہ کب اپنی ان معلومات تک رسائی دے رہے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا، 'ہم اس بات پر متفق ہیں، اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تبدیلیاں لا رہے ہیں کہ صارفین اپنی معلومات تک رسائی اسی وقت دیں، جب وہ ایسا کرنا چاہیں۔'

Frau Facebook Laptop Flash-Galerie

ذاتی معلومات تک رسائی دینے والے فیچر کو مزید بہتر بنایا جائے گا

ڈگلس پورڈی نے بتایا کہ جس قدر جلدی ہوا اس موضوع سے متعلق اپ ڈیٹس متعارف کرا دی جائیں گی اور جب تک مجوزہ تبدیلیوں کا عمل تیار نہیں ہو جاتا، معلومات تک رسائی دینے کا فیچر غیرفعال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، 'اس فیچر کو مزید بہتر بنایا جائے گا، جس کے بعد آئندہ چند ہفتوں میں اسے فعال کیا جا سکتا ہے۔'

فیس بُک نے گزشتہ جمعہ کو جن تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا، اُن کا مقصد اس کے صارفین کو بیرونی ویب سائٹس اور تھرڈ پارٹی ڈویلپرز کو موبائل فون نمبرز اور ایڈریسز تک رسائی دینا تھا، جس کے مطابق ان فریقین کی جانب سے ایسے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے سے پہلے صارف کو اس کا واضح طور پر علم ہونا چاہیے جبکہ دوستوں کے فون نمبروں تک رسائی نہیں دی جا سکتی۔

کمپیوٹر سکیورٹی کمپنی سوفوس میں سینیئر ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ گراہم کولولی بھی فیس بُک کے قبل ازیں کیے گئے اعلان پر تشویش ظاہر کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا، 'میں یہ سمجھتا ہوں کہ فیس بُک استعمال کرنےوالے اپنی ذاتی معلومات تک اپنی مرضی سے ہی رسائی دیں گے، لیکن انٹرنیٹ پر ایسے حملے معمول بن گئے ہیں، جن کے ذریعے صارفین کو ایسی معلومات تک رسائی دینے پر تیار کیا جاتا ہے۔'

انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ کچھ عناصر فون نمبروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بوگس ایپلی کیشن بھی بنا سکتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM