1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شیو سینا کی دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: آسٹریلیا

آسٹریلیا نے بھارت میں سرگرم سخت گیر موقف کی حامل ہندو سیاسی جماعت شیو سینا کی طرف سے آسٹریلوی کرکٹرز کو مہاراشٹر میں کھیلنے کی اجازت نہ دینے کی دھمکی کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

default

آسٹریلوی وزیر اعظم کیون رڈ اور نائب وزیر اعظم جولیا گیلارڈ

آسٹریلیا میں بھارتی شہریوں پر حالیہ حملوں کے بعد بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان روایتی طور پر اچھے تعلقات اب کشیدہ ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ سٹیفن سمتھ نے جمعرات کو کہا ہے کہ کینبرا حکومت شیو سینا کے شدت پسند سربراہ بال ٹھاکرے کی تازہ ترین دھمکی کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ ٹھاکرے نے بدھ کے روز یہ دھمکی دی کہ اُن کی جماعت آسٹریلوی ٹیم کو ریاست مہاراشٹر میں کرکٹ کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔

Bal Thackeray Indischer Nationalist

شیو سینا کے شدت پسندسربراہ بال ٹھاکرے

دونوں ملکوں میں کرکٹ کے کھیل کو جنون کی حد تک پسند کیا جاتا ہے لیکن آسٹریلیا میں بھارتی شہریوں پر حالیہ حملوں اور بھارت کی جانب سے ان ناخوشگوار واقعات کے خلاف سخت رد عمل کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناوٴ پیدا ہوگیا ہے۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ سٹیفن سمتھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دفتر کے عہدے دار آسٹریلوی کرکٹ بورڈ ’کرکٹ آسٹریلیا‘ کے حکام سے ملے، جہاں شیو سینا کی دھمکی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سمتھ نے مزید بتایا کہ کرکٹ آسٹریلیا اور آسٹریلوی ٹیم کے کھلاڑی ہی مستقبل میں بھارت کا دورہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کری‍ں گے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شیوسینا کی دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم ’پرُ خطر مقامات‘ کا سفر کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کھلاڑی خود ہی کریں گے۔

Australien Cricket Meisterschaft Neuseeland

آسٹریلوی کھلاڑی شین واٹسن اور جیمز ہوپس چیمپینئز ٹرافی کا فائنل جیتنے کے بعد خوشیاں مناتے ہوئے

بھارتی ذرائع ابلاغ اور بعض حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ’’آسٹریلیا میں بھارتی شہریوں اور بھارتی نژاد آسٹریلوی شہریوں پر حملے دراصل نسلی تعصب اور امتیاز کی بناء پر ہو رہے ہیں۔‘‘ تاہم آسٹریلوی حکام کا اصرار ہے کہ ایسے واقعات میں نسلی امتیاز کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ آسٹریلوی حکام نے بھارتی ذرائع ابلاغ پر حملوں کے ناخوشگوار واقعات کی رپورٹنگ کے حوالے سے ’’جانبداری اور مبالغہ آرائی‘‘ کے الزامات عائد کئے ہیں۔

Indien Großbritannien Streit um Big Brother Presseschau

بھارتی اخبارات نے’ بگ بردر‘ ٹیلی وژن شو میں بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے خلاف مبینہ نسلی امتیاز کی بھی بھرپور کوریج کی تھی

قائم مقام آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ کے بقول شیو سینا کی دھمکی کے بعد حکومت ’کرکٹ آسٹریلیا‘ کے ساتھ رابطے میں ہے اور ایک ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جولیا گیلارڈ نے شہر میلبورن میں رپورٹروں کو بتایا:’’بیرونی ملکوں کا سفر کرنے سے متعلق دفتر برائے خارجہ امور کے مشوروں کے بعد ہی ’کرکٹ آسٹریلیا‘ فیصلہ کرتا ہے۔ ہمارے کرکٹرز بھارت یا کسی دوسرے ملک کا سفر کرتے وقت ملک کے دفتر خارجہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔‘‘

شیو سینا کے چیف نے بدھ کو ممبئی میں کہا تھا کہ وہ بھارتی شہریوں پر حملے کرنے والوں کو اپنی ریاست میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ٹھاکرے کے یہ تاثرات اُن کی اپنی ہی پارٹی کے اخبار ’سامنا‘ میں شائع ہوئے۔

ابھی اسی ماہ میلبورن کے ایک ریستوران کے باہر اکیس سالہ بھارتی شہری نیتن گارگ کو چھری کے پے درپے کئی وار کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ آسٹریلیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں تقریباً ایک لاکھ بھارتی زیر تعلیم ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: امجد عل

DW.COM