1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شینگن کا کیا ہو گا؟ مناظر پھر بدلنے لگے

یورپ میں شینگن معاہدے میں شامل ممالک کے درمیان سرحدیں ایک طرح سے ختم ہو گئی تھیں، مگر مہاجرین کا بحران اب اس معاہدے کو کمزور اور مناظر کو تبدیل کرنے لگا ہے۔

اٹلی اور آسٹریا کے درمیان برفیلی پہاڑی سرحدی گزرگاہ برینر شینگن معاہدے کے بعد کوئی باقاعدہ سرحد نہیں رہی تھی۔ کوئی بھی شخص اس راستے پر چلتا تھا، تو معلوم تک نہ ہوتا تھا کہ کب ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ چکا ہے۔ مگر مہاجرین کے سیلاب نے اس پہاڑی علاقے میں موجود اس سرحد کو ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا ہے۔

یہاں موجود افراد کسی وقت اس سرحد کے ختم ہونے پر شاداں تھے، مگر اب وہی مقامی افراد اس سرحد کو زندہ کرنے کے خواہاں ہیں، تاکہ مہاجرین کا ملک میں داخلہ روکا جا سکے۔

آسٹرین سرحد پر کسی دور میں ایک سرحدی چیک پوسٹ ہوا کرتی تھی، جو شینگن معاہدے کے بعد روایتی ملبوسات کی ایک دکان میں تبدیل کر دی گئی۔ سرحد کے دوسری طرف اطالوی علاقے میں بھی مکانات منہدم کر دیے گئے اور وہاں بڑی بڑی کار پارکنگ عمارتیں اور شاپنگ سینٹر تعمیر کر دیے گئے۔ مگر اب آسٹریا کی حکومت نے انتہائی دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں کے دباؤ میں آ کر گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ وہ جلد ہی سرحدوں پر ایک باقاعدہ چیکنگ نظام نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی زیادہ سے زیادہ یومیہ تعداد 80 مقرر کی گئی ہے۔

Grenzkontrollen an der deutsch-österreichischen Grenze

آسٹریا نے اپنی سرحدوں کی نگرانی میں اضافہ کیا ہے

برینر کا علاقہ بھی اسی حکومتی فیصلے کے نفاذ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہاں اب سرحد پر ایک مرتبہ پھر آسٹریا کا پرچم دکھائی دے رہا ہے، جب کہ ایک جانب لکھا ہے، ’’جمہوریہ آسٹریا، سرحدی چیک پوائنٹ‘‘۔ دیگر دو اشاروں پر لکھا ہے، ’رکیے‘ اور ’سرحدی کنٹرول‘۔

اطالوی طرف کے علاقے کے میئر فرانز کمپاٹچر کا کہنا ہے کہ برینر کو یورپ میں آزادنہ نقل و حمل کی ایک علامت کے طور پر برقرار رہنا چاہیے، ’’اگر یہ علامت ختم ہو گئی، تو سمجھیے یورپ کا خیال بھی دم توڑ گیا۔‘‘

250 نفوس کے اسی علاقے سے موٹروے اور ریلوے پٹری کے ذریعے آسٹریا کا علاقہ انسبرُک اور جرمن شہر میونخ جڑے ہوئے ہیں۔

تیس برس قبل یورپی انضمام سے ان علاقوں میں افراد اور سامان کی آمدورفت کی آزادانہ نقل وحمل کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جو اب رفتہ رفتہ رکتا جا رہا ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں اور افراد کو کس طرح سخت سرحدی کنٹرول کے عمل سے گزارا جا سکے گا؟