1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شینگن زون کو محدود کر دیا جائے، ہالینڈ کی تجویز

مہاجرین اور تارکین وطن کی آمد کو کنٹرول کرنے کے لیے ہالینڈ کی حکومت دیگر یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی تجویز پر کام کر رہی ہے جس کے تحت مغربی یورپ کے ممالک کی سرحدوں پر پاسپورٹ چیک کیے جائیں گے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ایمسٹرڈیم حکومت داخلی طور پر اور اپنے دیگر اتحادیوں کی مشاورت کے ساتھ مل کر ’منی شینگن‘ بنانے کی تجویز پر کام کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

تاہم شینگن ممالک کی حدود کے اندر ’منی شینگن‘ بنانے کی تجویز چھبیس یورپی ممالک کے مابین سرحدوں کے بغیر آزاد نقل و حمل کے معاہدہ کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گی۔

یورپی کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمیشن کے سامنے ابھی تک باقاعدہ طور پر کوئی ایسی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ یورپ کو حالیہ برسوں کے دوران دوسری جنگ عظیم کے بعد تارکین وطن کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔

جرمنی کے وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے برلن میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کی گئی ایک گفتگو میں بتایا کہ ہالینڈ کے وزیر خارجہ بیرٹ کوُنڈرس نے ان کے سامنے یہ تجویز پیش کی ہے لیکن جرمنی اس حوالے سے زیادہ پرجوش نہیں ہے۔ ڈے میزیئر نے کہا، ’’ہمارا سیاسی مقصد یہ ہے کہ شینگن علاقہ بحیثیت مجموعی فعال رہے، اس کے علاوہ سب باتیں صرف ضمنی ہیں۔‘‘

ہالینڈ کی تجاویز فرانس کے اس منصوبے سے مختلف ہیں جن کے تحت گزشتہ ہفتے ہونے والے فرانس حملوں کے بعد شینگن ممالک کی مابین سرحدوں کی منظم نگرانی کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

ہالینڈ کے ایک مقامی روزنامے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’منی شینگن‘ علاقہ آسٹریا، جرمنی، بیلجیم، لگسمبرگ اور ہالینڈ پر مشتمل ہو گا۔ اس منصوبے کے تحت مذکورہ ممالک کی سرحدوں کے باہر ٹرانزٹ کیمپ بھی قائم کیے جائیں گے جہاں پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن کو رکھا جائے گا۔

ہالینڈ کے وزیر خارجہ بیرٹ کوُنڈارس نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ رپورٹ میں دی گئی تفصیلات درست ہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کا علاوہ دیگر اقدامات بھی زیر غور ہیں۔

ہالینڈ میں تارکین وطن کے امور کی نگران وزارت انصاف کی ترجمان نے کہا، ’’ہالینڈ اور دیگر ممالک مہاجرین کے مسئلے کے حل کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں اور ہالینڈ مستقل بنیادوں پر اس بابت اپنے ہم خیال ممالک سے بات چیت کر رہا ہے۔‘‘

ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک رُٹے کی جماعت پیپلز پارٹی فار فریڈم اینڈ جسٹس کے سربراہ نے ’منی شینگن‘ علاقہ بنانے کے منصوبے کی حمایت کی ہے جب کہ حکمران اتحاد میں شامل چھوٹی جماعت لیبر پارٹی کہا کہنا ہے کہ انہیں اس منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے ’پیچیدگیاں اور دشورایاں‘ دکھائی دیتی ہیں۔

لیبر پارٹی کے ایک رہنما نے خبررساں ادارے روئٹرز سے کی گئی گفتگو میں کہا کہ اگر یورپی یونین کی سرحدی پالیسی مسلسل ناکام رہتی ہے تو ان کی پارٹی بھی ’منی شینگن‘ منصوبے کی حمایت کرے گی۔

DW.COM