1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شینواری قبائل کا داعش مخالف مسلح تحریک کا اعلان

افغانستان کے مشرقی صوبه ننگرہار میں شنواری قبائل نے داعش کے حامی عسکریت پسندوں کی سرکوبی کے لیے مقامی طور پر مزاحمتی مسلح تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔

عراق و شام میں دولت الاسلامیه نامی گروپ کی جانب سے سر اٹهانے کے بعد رواں برس کے اوائل میں چند افغان عسکریت پسندوں نے اس گروپ کی حمایت کا اعلان کیا تها۔ جنوبی صوبه ہلمند میں حافظ سعید خان نے اپنے ساتهیوں کے ہمراه داعش کہلانے والے اس گروپ کے ساتھ خود کو جوڑا تها، جس کے بعد داعش نے اپنی خودساخته "اسلامی امارت" میں خراسان (پاکستان کے شمال مغربی علاقوں، افغانستان اور بعض دیگر ملحقه علاقوں کا تاریخی نام) کو بهی شامل کرکے سعید خان کو اس کا امیر مقرر ڈالا تها۔

سعید خان اور ان کے بعد مقرر کیے جانے والے امیر عبد الروف دونوں ہی افغان و اتحادی افواج کے حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق داعش گروه اب جنوب سے تقریباﹰ مکمل طور پر مشرق کی جانب منتقل ہو چکا ہے اور شینواری قبائل کے گاؤں دیہات ان کے ’مضبوط ٹهکانوں‘ میں بدل گئے ہیں۔ یه علاقے پاکستان کی قبائلی و نیم قبائلی پٹی سے ملحق ہیں۔

جلال آباد سے تعلق رکهنے والے رکن ولسی جرگه (پارلیمان) ظاہر قدیر نے انکشاف کیا که شینواری قبائل داعش کے خلاف آج سے منظم ہورہے ہیں۔ قدیر جوکه نائب اسپیکر بهی ہیں، نے بدھ کے روز حکومت سے اپیل که اس مزاحمتی تحریک کے ساتھ مالی معاونت و ٹریننگ کا اہتمام کرے۔ واضح رہے که افغانستان میں اگرچه اس طرح کی بعض غیر حکومتی ملیشیا تحریکوں، جیسا که افغان لوکل پولیس نے کچھ علاقوں میں قیام امن کے حوالے سے خاصے مثبت نتائج فراہم کیے ہیں مگر مجموعی طور پر نجی ملیشیا کے حوالے سے اس ملک کا تجربه خاصا خونریز رہا ہے۔

ظاہر قدیر نے شینواریوں کی جانب سے داعش مخالف تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایوان کو یه باور کروانے کی کوشش کی که وه ذاتی طور پر ملیشیا سازی کے حامی نہیں اور نه ہی ایسا کچھ کرنے جا رہے ہیں، ’’حکومت اپنے وسائل ایسی تحریکوں کو دبانے کے لیے نہیں بلکه ان کی پشت پناہی کے لیے استعمال کرے، یه تحریک اپنے علاقوں کی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔‘‘

ننگرہار ہی سے تعلق رکهنے والے افغان صحافی و تجزیه نگار عتیق الرحمان زلاند کے بقول شنواری قبائل کی جانب سے داعش مخالف تحریک کا قیام ایک اہم پیشرفت ہے، ’’افغانستان میں موجود داعش عسکریت پسند خود افغانستان کے لیے اتنا بڑا خطره نہیں، جتنی بڑی سر درد یه پاکستان کے لیے بن سکتے ہیں، یہاں (افغانستان) میں پاکستان کی نسبت سلفی نظریات کے حامیوں کی تعداد بهی کم ہے اور ان کے اہداف جیساکه مسیحی، قادیانی وغیره بهی نه ہونے کے برابر ہیں۔‘‘

افغان صدر اشرف غنی نے ظاہر قدیر کے ان دعوؤں کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی قائم کر رکهی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا تها که حکومت دراصل بالواسطه طور پر داعش کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ان الزامات کو حکومت کے ساتھ ساتھ پارلیمان کے نمائندوں نے غیر منتقی قرار دیتے ہوئے ظاہر قدیر سے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبه کر رکها ہے تاہم قدیر کہتے ہیں که ایسا کرنے سے چونکه حکومت گر سکتی ہے لہذا وه فی الحال ایسا نہیں کریں گے۔