1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شینزو آبے نے الیکشن جیت لیا، مگر لوگوں کے دل نہ جیت پائے

جاپان میں اتوار بائیس اکتوبر کے پارلیمانی الیکشن میں جاپانی وزیراعظم بھاری کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جماعت اور حلیف پارٹی کو اس الیکشن میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

جاپانی سیاست کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اتوار کے انتخابات میں شینزو آبے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن وہ اپنے عوام کے دل اور دماغ کو جیتنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ جاپانی ووٹرز شاکی ہیں کہ شینزو آبے اُن کے ملک کے امن پسندانہ دستورکی بنیادی روح کو تبدیل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

اب شمالی کوریا سے ثابت قدمی سے نمٹا جائے گا، آبے

شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے ایک اور میزائل داغ دیا

’’مستقبل قریب میں جوہری جنگ کا خطرہ‘‘

جاپانی وزیراعظم نے ایوانِ زیریں تحلیل کر دیا

جاپان کی سرکاری نیوز ایجنسی کیوڈو کے کرائے گئے رائے عامہ کے ايک جائزے میں اکاون فیصد شرکاء نے واضح کیا کہ وہ شینزو آبے پر اعتماد نہیں کرتے۔ ایک اور آزاد ادارے اساہی شمبُون کے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 47 فیصد جاپانی عوام کا خیال ہے کہ اُن کے ملک پر شینزو آبے نہیں بلکہ کوئی اور حکمرانی کر رہا ہے۔

جاپانی ووٹرز کو ایک اور پریشانی یہ بھی لاحق ہے کہ اپوزیشن پوری طرح بکھر کر رہ گئی ہے اور صرف آبے اور اُن کی سیاسی جماعت ہی ملکی سیاسی منظر پر متحد دکھائی دیتی ہے۔ بائیس اکتوبر کے الیکشن میں بھی وزیراعظم کی قدامت پسند رجحان رکھنے والی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں کو پوری طرح تتربِتر کر دیا ہے۔

Japan Protest Shinzo Abes Verteidigungspolitik (picture-alliance/dpa/C. Jue)

جاپانی ووٹرز شاکی ہیں کہ شینزو آبے اُن کے ملک کے امن پسندانہ دستورکی بنیادی روح کو تبدیل کرنے کی کوشش میں ہیں

اکتوبر کے انتخابات سے ایک دو ماہ قبل ٹوکیو شہر کی خاتون گورنر یوریکو کوئکے نے ایک نئی سیاسی جماعت بنائی۔ اس کا نام ’پارٹی آف ہوپ‘ ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بظاہر کوئکے کا انتخابی منشور بھی لبرل ڈیمیوکریٹک پارٹی سے ملتا جلتا ہے لیکن عوام کو اگلے الیکشن تک اس پارٹی کی شکل میں ایک نئی قیادت اور تبدیلی میسر آ سکتی ہے۔ حالیہ الیکشن میں یہ تیسری پوزیشن پر آئی ہے اور پارلیمنٹ میں چالیس سے زائد سیٹیں حاصل کر سکی ہے۔

شینزو آبے کی مخالف بائیں بازو کی بڑی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے خراب حال ہونے کی ایک بڑی وجہ اُس کے کئی ورکرز کی خاتون سیاستدان کی نئی سیاسی جماعت میں شمولیت بھی خیال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بائیں بازو کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں نے کانسٹیٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کر دی ہے۔ اس نئی سیاسی پارٹی کو تازہ الیکشن میں دوسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے اور یہ پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں ساٹھ کے قریب نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

DW.COM