1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’شیعہ ملیشیا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہے‘

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شیعہ ملیشیا پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگی جرائم کی مرتکب ہو سکتی ہے۔ عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔

default

شیعہ ملیشیا کے مسلح عسکریت پسند

امریکی شہر نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے آج اتوار کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ مشرقی عراقی علاقے میں سنی شہری آبادی کے افراد کا تسلسل سے اغوا اور ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سنیوں کی املاک پر حملوں میں ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے ملوث ہونے کے قوی امکانات ہیں اور اس طرح کی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دارالحکومت بغداد کے شمال مشرق میں واقع ایک شہر مقدادیہ میں سنی انتہا پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جانب سے کیے گئے دو حملوں میں تیئس افراد کی ہلاکت کے بعد اِس شہر میں بغداد حکومت کی رضا سے شیعہ ملیشیا کے جنگووں کو تعینات کیا گیا۔ اسلامک اسٹیٹ نے ذمہ داری قبول کرنے کے بیان میں واضح کیا تھا کہ اُس کے حملوں کا نشانہ شیعہ تھے۔ مقدادیہ میں شیعہ جنگجووں نے جواباً سنی آبادی کے خلاف اپنی کارروائیوں میں بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔

Irak Tikrit Offensive irakische Armee

عراق میں حکومتی فوج کے شانہ بشانہ شیعہ ملیشیا گروپ مسلح کارروائیوں کا حصہ ہیں

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق بدر تنظیم اور عصائب اہل الحق وہ نمایاں شیعہ عسکری گروپس ہیں جو حکومت نواز سویلین فائٹرز مشتمل ہیں اور یہ بظاہر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف بغداد حکومت کی عسکری مہم کا حصہ ہیں۔ ایچ آر ڈبلیو کے مطابق دونوں بڑی شیعہ تنظیموں کو لگام ڈالنے کی انتہائی ضرورت ہے کیونکہ وہ اپنی مسلح کارروائیوں میں حدیں عبور کر چکی ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ ملک جو عراق کی حکومت کو مالی اور دوسری امداد فراہم کر رہے ہیں، وہ بغداد حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ شیعہ عسکری گروپوں کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرے۔

ہیومن رائٹس واچ نے مقدادیہ شہر کے سنی شہریوں کے بیانات جمع کر کے کہا ہے کہ اِن کو یقین ہے کہ اُن کے گھروں، مساجد اور لوگوں پر حملوں کا سلسلہ شیعہ ملیشیا کے گوریلے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق وہ مقدادیہ کے سنی افراد پر کیے جانے والے حملوں کے حوالے سے ہیومن رائٹس واچ کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکی ہے۔ عراق کے سنی اراکین پارلیمنٹ نے روئٹرز کو یہ ضرور بتایا کہ رواں مہینے کے دوران مختلف حملوں میں چالیس سنی مارے جا چکے ہیں اور دیالہ شہر میں نو سنی مساجد پر فائر بم بھی پھینکے گئے۔ شیعہ ملیشیا ان اعداد و شمار کی تردید کرتی ہیں۔