شیعہ مذہبی رہنما السیستانی ہفتہ وار خطاب مزید نہیں کریں گے | حالات حاضرہ | DW | 05.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شیعہ مذہبی رہنما السیستانی ہفتہ وار خطاب مزید نہیں کریں گے

عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ مذہبی رہنما نے کہا ہے کہ اب وہ مزید باقاعدہ ہفتہ وار خطبہ نہیں دیا کریں گے۔ سیاسی امور پر ان کے خطبات عراق میں ان کے حامی سیاستدانوں اور لاکھوں دیگر افراد کے لیے باعث رہنمائی تصور کیے جاتے تھے۔

Ayatollah Ali al Sistani

السیستانی کے خطبات عراق کی شیعہ آبادی کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جاتے تھے

خبر رساں ادارے روئٹرز نے گرینڈ آیت اللہ علی الحسینی السیستانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ سیاسی امور پر اپنے ہفتہ وار خطبات کا سلسلہ معطل کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں اس شیعہ مذہبی رہنما نے اپنے خطبوں میں انتہا پسند گروپ داعش کے خلاف اور انسداد بدعنوانی سے متعلق امور پر اپنی توجہ مبذول کر رکھی تھی۔

ان کے یہ خطبات عراق کی شیعہ آبادی کے لیے انتہائی متبرک تصور کیے جاتے تھے۔ متعدد سیاستدان اور ان کے حامی ایسے خطبات کو اپنی رہنمائی کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔

السیستانی کے قریبی ساتھی احمد الصافی نے ایک نشریاتی پیغام میں کہا، ’’فیصلہ کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان خطبات کا ہفتہ وار دیا جانا بند کر دیا جائے۔ تاہم اب یہ خطبات مخصوص واقعات کے تناظر میں ضرورت کے مطابق جاری کیے جائیں گے۔‘‘

نماز جمعہ سے قبل کربلا کے مقام سے نشر کیے جانے والے اس بیان میں الصافی نے مزید کہا کہ گرینڈ آیت اللہ علی الحسینی السیستانی اپنے حامیوں کے لیے رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

السیستانی نہ صرف عراق بلکہ دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کے لیے انتہائی با عزت شخصیت ہیں۔ ان کے سیاسی خطبات میں سکیورٹی امور، الیکشن، اقتصادیات اور ایسے ہی دیگر معاملات شامل ہوتے ہیں۔

Irak Ajatollah Ali al-Sistani

گرینڈ آیت اللہ علی الحسینی السیستانی سیاسی امور پر اپنے ہفتہ وار خطبات کا سلسلہ معطل کر رہے ہیں

جون سن 2014ء میں السیستانی نے عراقی باشندوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انتہا پسند گروپ داعش کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا، جب ان جہادیوں نے ملک کے ایک تہائی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد عراق کے لاکھوں شیعہ مسلمان داعش کے خلاف کارروائی میں شریک ہو گئے تھے۔

اسی طرح السیستانی نے گزشتہ برس موسم گرما میں عراق میں سیاسی نظام میں پائی جانے والی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور ديا۔ جس کے بعد وزیر اعظم حیدر العبادی نے اصلاحات کا ایک جامع منصوبہ شروع کر دیا تھا۔ تاہم السیستانی نے اس منصوبے کی سست رفتار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔