1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

شیزوفرینیا کے خطرات 35 گُنا تک بڑھانے والے جین کی دریافت

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ SETD1A نامی جین میں خرابی شیزوفرینیا کے خطرات میں 35 گُنا تک اضافہ کر دیتی ہے۔ اس دریافت سے شیزوفرینیا کے نئے علاج میں کامیابی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

برطانیہ کے ’ویلکم ٹرسٹ سینگر انسٹیٹیوٹ‘ کے ماہرین پر مشتمل ٹیم کے مطابق اس جین مین نقصان دہ تبدیلیاں پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں مگر جب یہ تبدیلیاں پیدا ہو جائیں تو شیزوفرینیا ہونے کے امکانات 35 گُنا تک بڑھ جاتے ہیں۔

ان ماہرین کے مطابق SETD1A نامی اس جین میں تبدیلی سے ’نیورو ڈیویلپمنٹل‘ یا اعصابی بیماریوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ’نیچر نیورو سائنس‘ میں شائع ہوئے ہیں۔ محققین کی ٹیم کے مطابق SETD1A جین میں خطرناک تبدیلیاں شیزوفرینیا کے مریض ہر 1000 میں سے صرف ایک کو متاثر کرتی ہیں۔

یاد داشت پر اثر انداز ہونے والی بیماری شیزوفرینیا دنیا بھر میں عام ہے اور ہر ایک سو افراد میں سے ایک فرد اس بیماری کا شکار ہے۔ اس کی علامات میں سوچنے، بولنے اور سمجھنے کے عمل میں مشکلات کے علاوہ نفسیاتی مسائل بھی شامل ہوتے ہیں جن میں مریض کو آوازیں سنائی دینا یا وسوسے وغیر شامل ہیں۔

شیزوفرینیا کی علامات میں نفسیاتی مسائل بھی شامل ہوتے ہیں جن میں مریض کو آوازیں سنائی دینا یا وسوسے وغیر شامل ہیں

شیزوفرینیا کی علامات میں نفسیاتی مسائل بھی شامل ہوتے ہیں جن میں مریض کو آوازیں سنائی دینا یا وسوسے وغیر شامل ہیں

شیزوفرینیا کی بالکل درست وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہیں تاہم اب تک ہونے والی تحقیق کے مطابق اس بیماری کے پیچھے جسمانی، جینیاتی، نفسیاتی اور ماحولیاتی اثرات کا عمل دخل ہوتا ہے۔

برطانیہ میں ہونے والی تحقیق کی سربراہی کرنے والے جیف باریٹ Jeff Barrett کے مطابق اس اسٹڈی کے نتائج حیران کن اور سنسنی خیز ہیں: ’’ذہنی امراض پیچیدہ امراض میں شمار ہوتے ہیں جن کے پیچھے کئی جینز کا عمل دخل ہوتا ہے اور یہ بات انتہائی مشکل ہوتی ہے کہ آپ کسی واحد جین کی اہمیت کے حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ کر سکیں۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق SETD1A نامی جین میں خرابی کے بارے میں یہ نئی تحقیق اگرچہ شیزوفرینیا کے بہت کم کیسز کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے تاہم اس تحقیق سے سائنسدانوں کو مستقبل کی راہ ملے گی جس سے وہ اس بیماری کے خلاف ادویات کی تیاری پر کام کر سکتے ہیں۔

اس اسٹڈی کے لیے سائنسدانوں نے برطانیہ، فِن لینڈ اور سویڈن سے تعلق رکھنے والے 16 ہزار افراد کے ’جینوم سیکوئنس‘ کا تجزیہ کیا۔ ان میں 5341 افراد ایسے تھے جنہیں شیزوفرینیا کا عارضہ لاحق تھا۔