1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شیخ حسینہ کی وطن واپسی

عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ اگلے مہینے ہونے والے قومی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آج صبح نو بجے امریکہ سے وطن واپس پہنچیں۔ جہاں وہ گزستہ پانچ ماہ سے علاج کی غرض سے مقیم تھیں۔

default

سابقہ وزیر اعظم شیخ حسینہ اٹھارہ نومبر کے انتخابات کے لیے پرجوش نظر آرہی ہیں

بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ ، ضیاء انٹرنیشنل ائیر پورٹ میں ہزاروں پارٹی کارکنان، ملک بھر سے حسینہ کے استقبال کے لیے پہنچے ہوئے تھے۔ اور انہیں نے اپنی لیڈرکا پرجوش انداز میں استقبال کیا۔

شیخ حسینہ نے اس موقع پر فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ انتخابات مقررہ وقت پر کر وائے جائیں۔ڈوئچے ویلے کے ڈھاکہ میں نمائندے سے بات کر تے ہوئے انہوں نے کہا : ’’ بنگلہ دیش میں انتخابات اٹھارہ دسمبر کو ہی ہونے چاہیے اور اگر حکومت کوئی بہانہ بنا کر انیہیں ملتوی کرتی ہے تو یہ ہمیں نا منظور ہو گا۔ اگر اس بات کو وجہ بنایا جاتا ہے کہ کوئی دوسری سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہتی تو یہ غلط ہو گا۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بنگلہ دیش کے غریب عوام کے مسائل کا حل صرف منتخب جمہوری حکومت کے پاس ہے۔‘‘

Bildcombo Sheikh Hasina und Khaleda Zia

بنگلہ دیش کی سیاست کا محور دو خواتین رہنما ہیں۔ خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ ملک کی دو بڑی جماعتوں بی این پی اور عوامی لیگ کی سربراہان ہیں

بنگلہ دیش میں گزشتہ سال جنوری میں ایمرجنسی اس وقت نافذ ہوئی تھی جب فوج کی حمایت یافتہ حکومت نے انتخاب ملتوی کر دیئے تھے۔ اس حکومت نے عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن ختم کردے گی اور اسی سلسلے میں ڈیڑھ سو سے زیادہ سیاست دانوں کو گرفتار کیا گیا اور تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ پر بھی اختیارات کے ناجائز استعمال، بد عنوانی اور مالی خرد برد کے مقدمات چلائے گئے۔ وہ تقریباً ایک سال جیل میں گزار چکی ہیں۔ جس کے بعد رواں سال جون میں انہیں طبی پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔ ’’عوامی لیگ انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ۔ بنگلہ دیش کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہمارکی پارٹی کام کرنا چاہتی ہے۔ایمرجنسی کے دوران حکومت نے جو قوانین نافذ کیے ہیں انہیں پارلیمان سے منظور کرایا جائے۔ اور اگر پارلیمان اسے منظور کرتی ہے تو اسے آئین کا حصہ بنانا چاہیے۔ ‘‘

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بی این پی انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی دے رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا خاتمہ کیا جائے اور سیاسی مقدمات کو واپس لیا جائے۔