1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شہری گوگل پر اعتراض کر سکتے ہیں، انگیلا میرکل

جرمن حکام نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ چاہیں تو گوگل کی ’اسٹریٹ ویو سروس‘ پر اعتراض کر سکتے ہیں۔ تاہم برلن حکومت نے اس حوالے سے کسی قانون سازی کو خارج از امکاں قرار دیا ہے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ اس سروس پر اعتراض کرنے والے شہری اس ویب سرچ کمپنی کو احتجاجی خط لکھیں۔ اپنے ہفتہ وار ویڈیو پوڈ کاسٹ میں جرمن چانسلر نے واضح کیا کہ وہ ایسی کسی قانون سازی کی تیاری نہیں کر رہیں، جس سے گوگل کے لئے تصاویر کا استعمال مشکل بن جائے۔

تاہم انہوں نے کہا، 'جو لوگ اس سروس کو اپنی نجی زندگی پر حملہ تصور کرتے ہیں، وہ اعتراض کرنے کا اپنا حق استعمال کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ حق کیسے استعمال کرنا ہے، امور صارفین کی وزیر الزے آئیگنیر اس کی وضاحت کر چکی ہیں۔ ان کی وزارت نے نمونے کے طور پر ایک خط تیار کیا ہے۔ آپ چاہیں تو اسے استعمال کر سکتے ہیں۔'

Portrait Ilse Aigner Landwirtschaftsministerin CSU

امور صارفین کی وزیر الزے آئیگنیر

الزے آئیگنیر گوگل کی اس سروس کے حوالے سے قبل ازیں نئے قوانین بنانے پر زور دے چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو گھروں کی تصاویر انٹرنیٹ پر جاری کرنے سے پہلے ان کے مالکان سے تحریری اجازت لینی چاہئے۔ تاہم اس سروس کے بارے میں جرمن عوام کی رائے تقسیم ہے۔

کمپنی کے اس منصوبے کے تحت تقریبا 20 ممالک کے شہروں سے گلیوں کی پینوراما تصاویر دستیاب ہیں، جو گوگل کی کیمرا کاروں کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں۔ تاہم جرمنی کی ایسی تصاویر ابھی آن لائن موجود نہیں۔

گوگل کمپنی اس حوالے سے جرمنی کے ریاستی پرائیویسی کمشنروں کی جانب سے طے کردہ ضوابط پر پورا اترنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جرمن خبررساں ادارے DPA کے مطابق گوگل نے جرمنی کے کسی بھی شہری کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے پر اس کے گھر کی تصویر آن لائن جاری نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خیال رہے کہ بیشتر یورپی ویب صارفین 'سرچ انجن' کے طور پر گوگل کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کمپنی کو یورپ سے اشتہارات کی مد میں کثیر آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبررساں ادارے

ادارت : افسر اعوان

DW.COM