1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شہریوں کے مواصلاتی کوائف جمع کرنا غیر آئینی ہے:جرمن عدالت

ٹیلی فون اور انٹرنٹ کے ذریعے کی جانے والی بات چیت کو ٹیپ کر کہ چھ ماہ تک محفوظ رکھنے کا عمل جرمنی کے ٹیلی مواصلاتی قوانین سمیت جرمن آئین کی خلاف ورزی ہے: ججوں کا موقف

default

جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت نے صارفین کے مواصلاتی کوائف کو چھ ماہ تک محفوظ رکھنے سے متعلق قانون کو رد کر دیا ہے۔ کارلسروہے میں قائم اس عدالت کے وکلاء نے کہا ہے کہ ٹیلی فون اور انٹرنٹ کے ذریعے کی جانے والی بات چیت کو ٹیپ کر کہ چھ ماہ تک محفوظ رکھنے کا عمل جرمنی کے ٹیلی مواصلاتی قوانین سمیت جرمن آئین کی خلاف ورزی ہے۔ کارلسروہے کی عدالت کے صدر Hans Jürgen Papier نے مطالبہ کیا ہے کہ اب تک جتنا ڈیٹا محفوظ کیا جا چکا ہے اسے بلاتاخیر ضائع کر دیا جائے۔

موبائیل فون ہویا لینڈ لائن نمبر، ایس ایم ایس کے ذریعے یا ای میل ، ہر طرح کی گفتگو اور الفاظ کے تبادلے پر مشتمل کوائف کو ریکارڈ کر کہ چھ ماہ تک محفوظ رکھنے کا فیصلہ سن دو ہزار سات میں وفاقی جرمن پارلیمان میں کیا گیا تھا ۔ اُس وقت کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں سی ڈی یو، سی ایس یو اور ایس پی ڈی نے مشترکہ طور پر اپوزیشن جماعتوں ماحول پسند گرین پارٹی، بائیں بازو کی لفٹ پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی ایف ڈی پی کی طرف سے عام شہریوں کی ٹیلی فون کے ذریعے ہونے والی بات چیت اوران کی ای میلز کو ٹیپ کر کہ محفوظ رکھنے کے فیصلے کی پُر زور مخالفت کو ناکام بنا دیا تھا۔

Muslimische Telefonseelsorge

ہاٹ لائن: اسلامک ریلیف برلن

اس کے باوجود اس بارے میں پارلیمان میں منظور ہونے والے قانون کا اطلاق سن 2008 ء سے ہوگیا تھا۔ ٹیلی فون، ای میل اور انٹرنٹ یوزیج ڈیٹا سمیت موبائیل فون کی لوکیشن کے بارے میں معلومات کو بھی اکھٹا کر کہ چھ ماہ تک محفوظ رکھا جانے لگا۔ جرمن حکومت اور سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ عمل ملکی سلامتی اور قانون کی بالا دستی کے لئے نہایت اہم ہے۔ اس قانون کے ناقدین میں بہت سے جرمن سیاست دان بھی شامل ہیں۔ جیسے کہ فری ڈیموکریٹ لیڈر اور ایک پبلک پروسیکیوٹر ماکس اشٹاڈلر، جن کا کہنا ہے کہ ’ان کوائف میں عام اور معصوم شہریوں کے ڈیٹا بھی شامل ہیں۔ جو کہیں سے بھی مشتبہ نہیں ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ماضی میں حکومت کو کسی قسم کے شکوک و شبہات کی صورت میں شہریوں کے پرائیوٹ کوائف جمع کرنے کی اجازت ہو‘۔ موجودہ مخلوط حکومت کے برسر اقتدارآنے کے بعد اشٹاڈلر نے وزارت انصاف میں اسٹیٹ سیکریٹری کا عہدہ سنبھال لیا ۔

Max Stadler

فری ڈیموکریٹک لیڈر اور پبلک پروسیکیوٹرمارکس اشٹاڈلر

جرمن عدالت کے ججوں کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت اکھٹے کئے جانے والے کوائف محفوظ نہیں ہیں اور اس قانون کے اصل مقاصد کا معاملہ بھی مبہم ہے۔ دریں اثناء 35 ہزار جرمن شہریوں اور اس قانون کے ناقدین سیاستدانوں نے مشترکہ طور پر یہ کیس کارلسروہے میں قائم آئینی عدالت میں پیش کیا۔ جس پر عدالت نے اسے ملکی آئین کے خلاف قراردیتے ہوئے رد کردیا ہے۔

جرمن پارلیمان کی طرف سے چُنے گئے شہریوں کے کوائف کے تحفظ کے نگران Peter Schaar نے گیارہ ستمبر کے بعد سے اب تک سلامتی کے جتنے قوانین وضع کئے گئے ہیں، تمام کی چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔ ’ان قوانین سے کیا کچھ حاصل ہوا ہے، ان کے اطلاق سے شہریوں کے نجی معاملات کس حد تک متاثر ہوئے ہیں اور یہ کس حد تک موثر ثابت ہوئے ہیں‘ ان تمام سوالات پر Peter Schaar نے حکومت اور عوام کی توجہ مبذول کروائی ہے۔

Bundesbeauftragter für Datenschutz Peter Schaar

تحفظ کوائف کے نگران پیٹر شار

کارلسروہے کی عدالت نے تاہم یورپی یونین کی اُس گائیڈ لائن کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھایا ہے جس کے اصولوں پر جرمن حکومت نے ڈیٹا جمع کرنے کا یہ متنازعہ قانون بنایا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل کے لئے کوائف جمع کرنے کے قانون کے نفاذ کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عاطف بلوچ