1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’شہریوں‘ کی ہلاکت، افغان قبائلیوں کا پرتشدد احتجاج

ایک فوجی کارروائی کے دوران متعدد افغان شہریوں کی ہلاکت کے بعد قبائلیوں نے اتوار کے روز احتجاج کیا اور ایندھن سے بھرے متعدد ٹینکروں کو آگ لگا دی۔

default

حکام کے مطابق ہفتے کی شب کئے گئے اس آپریشن میں امریکی اور افغان فوج نے حصہ لیا۔ اس کارروائی میں عسکریت پسندوں کے ایک مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی پولیس سربراہ کرنل غلام مصطفیٰ کے مطابق لوگر صوبے میں ہونے والی اس کارروائی کا نشانہ تین مشتبہ طالبان تھے، جو ایک مکان میں موجود تھے۔ ’’ان تینوں مشتبہ عسکریت پسندوں کو اس آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا۔‘‘

کابل کے جنوب میں واقع صوبہ لوگر میں طالبان خاصی بڑی تعداد میں موجود سمجھے جاتے ہیں۔ غلام مصطفیٰ کے مطابق اس کارروائی میں متعدد مسلح افراد کو گرفتار اور بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔

Unruhen in Jalalabad Afghanistan

مظاہرین نے متعدد گاڑیاں نذر آتش کر ڈالیں

نیٹو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبہ لوگر کے گاؤں نگر میں رات کے وقت کئے گئے اس مشترکہ آپریشن میں ’’عسکریت پسندوں کے ایک نائب کمانڈر اور متعدد جنگجوؤں کو حراست میں لیا گیا۔‘‘

ایساف دستوں کے مطابق اس کارروائی میں عسکریت پسندوں کی جانب سے فوج پر فائرنگ کی گئی۔ ’’جب متعدد افراد احکامات کے باوجود اس مکان سے باہر نہ نکلے اور چھپے رہے تو انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ اس کارروائی میں دو عسکریت پسند گرفتار بھی کرلئے گئے۔‘‘

دوسری جانب اتوار کے روز سینکڑوں قبائلیوں نے صوبہ لوگر کے دارالحکومت پلی عالم میں امریکہ اور حکومت مخالف مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں شامل قبائلیوں کا اصرار تھا کہ ہلاک کئے گئے تمام افراد عام دیہاتی تھے۔ ان افراد نے احتجاج کا آغاز زبردست نعرے بازی سے کیا اور اس کے بعد آس پاس موجود گاڑیوں کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان