1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے ترکی کے ایران اور روس سے رابطے

شام کے شہر حلب سے عام شہریوں کے محفوظ انخلاء کے لیے ترکی نے اپنی کوششیں تیز کرتے ہوئے روس، ایران اور امریکا سے رابطے کیے ہیں۔ دریں اثناء حلب میں شدید لڑائی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے شام کی حکومتی فورسز پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک اس کوشش میں ہیں کہ حلب کے باقی ماندہ علاقے سے شہریوں کے محفوظ انخلاء کو ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے حلب کی صورتحال کو ’انتہائی نازک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بدھ کی رات روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کریں گے۔ انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’جنگ بندی کے لیے ترکی کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کی کوششیں حلب کے معصوم لوگوں کی آخری امید ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’حلب میں پھنسے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ راستہ فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ مشرقی حلب میں موجود تمام شہریوں کو ایک ساتھ نکلنے کی اجازت دی جائے۔ اسد فورسز مشرقی حلب میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہیں اور ہم اس حکومتی قتل و غارت پر خاموش نہیں رہ سکتے۔‘‘

روس کے بعد صدر اسد کا دوسرا بڑا حمایتی ملک ایران ہے۔ جنگ بندی معاہدے کے لیے ایران نے نئی شرائط عائد کر دی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جنگ بندی معاہدے کو فوری نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی سلسلے میں آج ترک وزیر خارجہ مولُود چاوُش اولو نے اپنے ایرانی اور امریکی ہم منصبوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے فائربندی معاہدے کو نافذالعمل بنایا جا سکے۔ ترک وزیر خارجہ آج ہی اپنے روسی ہم منصب سے بھی بات کریں گے۔

 ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’گزشتہ روز یہ طے پایا تھا کہ سب سے پہلے عام شہریوں کو نکلنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومتی فوج اور دوسرے گروپ اس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔‘‘

دوسری جانب روسی وزیر دفاع کا انٹرفیکس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ آج طلوع آفتاب سے پہلے باغیوں نے حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا جبکہ شامی فورسز نے ان حملوں کو پسپا کیا ہے۔

روسی وزارتِ دفاع کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شامی شہر حلب میں باغی اب مزید محض دو اعشاریہ پانچ مربع کلومیٹر کے علاقے پر قابض ہیں اور زیادہ سے زیادہ مزید دو یا تین روز تک مزاحمت کر پائیں گے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کی شام کے لیے انکوائری کمیشن ( سی او آئی) نے کہا ہے کہ انہیں ایسی رپورٹیں بھی موصول ہو رہی ہیں، جن کے مطابق باغی عام شہریوں کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور انہیں حلب میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے فرار ہونے سے روک رہے ہیں۔

DW.COM