1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شہباز تاثیر پانچ سال بعد اپنے گھر میں

آٹھ نشستوں والا سفید رنگ کا خصوصی طیارہ جب سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے مغوی بیٹے شہباز تاثیر کو لے کر لاہور ایئر پورٹ پر اترا تو استقبال کے لیے وہاں کھڑے اُس کے گھر والوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیر رہے تھے۔

Pakistan Entführungsopfer Shahbaz Taseer

شہباز تاثیر لاہور کے پرانے ایئر پورٹ پر اپنی والدہ آمنہ تاثیر کے ہمراہ

پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے مغوی صاحبزادے شہباز تاثیر کو منگل کی شام کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک کے ایک ہوٹل سے بازیاب کیا گیا تھا، جس کےبعد انہیں گزشتہ رات کوئٹہ کینٹ کے ایک ملٹری میس میں رکھا گیا تھا۔ وہاں سے بدھ کی صبح انہیں مقامی ایئر بیس پر سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور پہنچایا گیا۔

بدھ کی دوپہر پون بجے کے قریب آٹھ سیٹوں والا ایک چھوٹا طیارہ لاہور کے پرانے ایئرپورٹ پر اترا تو شہباز تاثیر کے استقبال کے لیے ان کی والدہ، اہلیہ اور دیگر رشتہ دار موجود تھے۔ فرط مسرت سے نمناک آنکھوں کے ساتھ وہاں موجود تمام گھر والوں نے شہباز کو گلے لگا کر پیار کیا۔ اس موقعے پر کئی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

اسی دوران پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو نے بھی فون کرکے انہیں بحفاظت لاہور پہنچنے پر مبارکباد دی۔ شہباز تاثیر کو بلاول بھٹو کی طرف سے بھیجی گئی بلٹ پروف گاڑی میں ایک سخت سیکورٹی حصار میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچایا گیا۔

شہباز تاثیر نے بدھ کا روز صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارا۔ تاثیر فیملی کی طرف سے اپنے تمام ملنے والوں کو اس دن گھر وزٹ نہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ شہباز تاثیر کی خالہ خاص طور پر کراچی سے بدھ کی سہ پہر لاہور پہنچیں۔

اس وقت لاہور کینٹ کے علاقے کیولری گراؤنڈ کے بنگلہ نمبر 118 میں عید کا سا سماں ہے۔ سرسبز درختوں اور سرخ و سفید پھولوں سے ڈھکے ہوئے اس گھر کو جانے والے تمام راستے خاردار رکاوٹوں کے ذریعے بند کر دیے گئے ہیں۔ صرف اس علاقے میں رہنے والوں کو یہاں آمدورفت کی اجازت ہے۔ سلمان تاثیر کے گھر کو چاروں طرف سے حساس اداروں، ایلیٹ فورس اور پولیس اہلکاروں نے گھیر رکھا ہے۔ گھر کے باہر چوراہوں پر حفاظتی چوکیاں بنائی گئی ہیں، جن میں مسلح پولیس اہلکار ٹریگروں پر انگلیاں جمائے چوکس کھڑے ہیں۔

Pakistan Entführungsopfer Shahbaz Taseer

فرط مسرت سے نمناک آنکھوں کے ساتھ ایئر پورٹ پر موجود تمام گھر والوں نے شہباز کو گلے لگا کر پیار کیا، اس موقعے پر کئی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے

اگرچہ تاثیر فیملی نے شہباز تاثیر کو میڈیا سے دور رکھا ہے اور میڈیا کو ایئرپورٹ کے اندر داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی، اس کے باوجود پچھلے چھتیس گھنٹوں سے الیکٹرانک میڈیا کے درجنوں صحافی ایک درجن سے زائد ڈی ایس این جی وینز کے ساتھ کسی بڑی خبر کے انتظار میں آس لگائے شہباز تاثیر کے گھر کے باہر بیٹھے ہیں۔ گھر کے آس پاس موجود صحافیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو تاثیر فیملی کی طرف سے مٹھائی کھلائی گئی اور تاثیر فیملی کی طرف سے یہاں موجود ایک سو سے زائد افراد کی تواضح کھا نوں اور چائے سے بھی کی جاتی رہی۔

تاثیر فیملی کے دیرینہ ملازم ممتاز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ شہباز تاثیر بدھ کی شام تک گھر کے ایک بڑے کمرے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ موجود رہے اور انہوں نے دوپہر کا کھانا بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ کھایا۔ اس موقعے پر شہباز کے گھر والوں نے اس کی پسندیدہ فاسٹ فوڈز کا آرڈر بھی دے رکھا تھا۔ انہوں نے اپنے ایام اسیری کے واقعات اپنے گھر والوں سے شیئر کیے اور اس عرصے کے دوران گھر کے حالات کے بارے میں بھی معلومات لیتے رہے۔

بدھ کے روز حساس اداروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بھی شہباز تاثیر کے گھر کا دورہ کیا اور وہ کچھ دیر تک وہاں رہے۔ تاثیر خاندان کے بڑوں نے بدھ کے روز ایک باہمی ملاقات میں آنے والے دنوں میں شہباز تاثیر کی سیفٹی اور سکیورٹی کے حوالے سے بھی مشاورت کی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ شہباز اور ان کے خاندان کے ارکان لاہور میں قیام کریں گے یا پھر بیرون ملک منتقل ہو جائیں گے۔

پاکستان کی ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر عالیہ آفتاب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ شہباز تاثیر جن حالات سے گذرے ہیں، ان کا اثر ان کے ذہن پر ابھی کچھ عرصے تک رہے گا اور انہیں ٹراما سے نکلنے میں اور نئے طرز زندگی میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگے گا:’’شہباز کو ٹراما یا پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر سے نکالنے میں ان کے گھر والوں کا کردار بہت اہم ہو گا۔ اگر ان سے ملنے والے لوگ ان سے بار بار اس صورتحال کے بارے میں سوالات کرتے رہیں گے تو پھر سلمان کا اس صورتحال سے نکلنا آسان نہیں ہو گا۔‘‘

ان کے بقول شہباز کے لیے اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا اور ملک سے باہر آؤٹنگ کے لیے جانا بھی مفید ہو سکتا ہے۔ بعض حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ شدت پسندوں کے درمیان ساڑھے چار سال گذار کر آنے والے شہباز تاثیر کو کونسلنگ کی بھی ضرورت ہے۔ بڑے پیمانے پر گردش کرنے والے ایک واٹس اپ پیغام میں یہ بھی درج ہے:’’مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا تھا لیکن دشمن نے ہمارا بچہ پڑھا کر بھیج دیا ہے۔‘‘ سوشل میڈیا پر لوگ شہباز تاثیر کے حوالے سے متفرق خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک منچلے نے اپنے جذبات کا اظہار اس شعر کے ذریعے کیا ہے:

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے

اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے

DW.COM