1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شہادت کے لیے بے تاب ہوں: خالد شیخ محمّد

گوانتا نامو بے میں مقّید القاعدہ کے رہنما نے کہا ہے کہ وہ جامِ شہادت نوش کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

default

گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کا مرکزی کردار خالد شیخ محمّد

خالد شیخ محمّد نے گوانتانامو بے میں اس امریکی فوجی عدالت کے سامنے اپنی یہ خواہش ظاہر کی ۔ یہ عدالت گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے ملزمان کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔ یہ مقدمہ امریکی بش انتظامیہ پر سخت اندرونی اور بیرونی دباؤ کے بعد بالآخر سات برسوں کے بعد ہو رہا ہے۔خالد شیخ محمّد سمیت پانچ ملزموں کو امریکی افواج نے امریکہ کی مختلف جیلوں میں قید رکھنے کے بعد کئ برس سے گوانتانامو بے کی جیل میں رکھا ہوا ہے۔

Vor dem Aufschlag

گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں نے دنیا کی سیاست کا رخ ہی موڑ دیا


خالد شیخ محمّد 9/11حملوں کا مرکزی کردار ہے۔ وہ پہلے ہی امریکی افواج کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کر چکا ہے۔خالد شیخ محمّد گو کہ کویت میں پیدا ہوا مگر اس کا تعلق پاکستان کے صوبہِ بلوچستان سے ہے۔ اس کو سن دو ہزار تین میں پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے پاکستان کی سر زمین سے گرفتار کیا اور بعد ازاںامریکہ کے حوالے کر دیا۔


خالد شیخ محمّد اور اس کے ساتھیوںکی کسی عدالت میں یہ پہلی پیشی ہے۔ مزکورہ فوجی عدالت بھی خاصی متنازعہ ہے۔امریکہ میں موجود سول سوسائٹی کی تنظیمیں اس عدالت کے غیر جانب دار ہونے پر شک کرتی رہی ہیں۔ خالد شیخ محمد کے ساتھ ساتھ ولید بن اتاش اوررمزی بن الشیبہ نے بھی اپنے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔

USA Gefangenenlager Guantanamo Häftling

گوانتانامو بے کی امریکی جیل انسانی حقوق کی پامالی کی علامت کے طور پر جانی جاتی ہے

انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ موقف ہے کہ اس طرح کی کوئ عدالت درست فیصلہ اس لیے نہیں کر سکتی کہ جو شواہد اور بیانات اس کے سامنے پیش کیے جائں گے ان کے جبراً حاصل کیے جانے کی تصدیق یہ عدالت نہیں کر پائے گی۔ ان اداروں اور تنظیموں کا موقف ہے کہ خالد شیخ محمّد سمیت تمام ملزمان کا مقدمہ عام عدالتوں میں چلا کر انہیں اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جائے۔

دوسری جانب اس مقدمے کی سماعت میں شرکت کے خواہش مند گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے عزیز و اقارب کو امریکی حکومت نے گوانتانامو بے جانے سے روک دیا ہے۔