1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شکیل آفریدی کو نہ رہا کریں گے نہ امریکا کے حوالے، پاکستانی وزیر

پاکستانی حکومت دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی مدد کرنے والے زیر حراست مقامی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو نہ تو رہا کرے گی اور نہ ہی اسے امریکا کے حوالے کیا جائے گا۔

Pakistan Arzt Shakil Afridi (dapd)

ڈاکٹر شکیل آفریدی

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ اٹھارہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ملکی میڈیا کے مطابق یہ بات پاکستانی وزیر قانون زاہد حامد نے ملکی پارلیمان کے ارکان کو بتائی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی، جسے امریکی حکام ایک ہیرو قرار دیتے ہیں، کو مئی دو ہزار گیارہ میں شمالی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ فوجی آپریشن کے دوران امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

’ٹرمپ کو غلط فہمی ہے، پاکستان امریکا کی نو آبادی نہیں‘

شکیل آفریدی کی جلد رہائی کی امید ہے یا نہیں؟

طالبان نے شکیل آفریدی کے وکیل کا قتل قبول کر لیا

شکیل آفریدی کی گرفتاری کے باعث دو اسٹریٹیجک پارٹنر ملکوں کے طور پر پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات بری طرح متاثر ہوئے تھے اور یہ موضوع واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین ابھی تک کشیدگی کی وجہ بنا ہوا ہے۔

پاکستان کا الزام ہے کہ شکیل آفریدی نے حفاظتی ٹیکے لگانے کی ایک ایسی جعلی مہم چلائی تھی، جس کے نتیجے میں وہ اس وقت ایبٹ آباد میں ایک بڑے رہائشی کمپاؤنڈ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم اسامہ بن لادن کے ایسے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، جن کی مدد سے سی آئی اے کے یہ شبہات یقین میں بدل گئے تھے کہ بن لادن وہیں رہتا تھا۔

Ehemaliges Versteck von Osama bin Laden in Abbotabad Pakistan (picture-alliance/dpa)

پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں وہ رہائشی کمپاؤنڈ جہاں امریکی فوجی کمانڈوز نے خفیہ آپریشن میں بن لادن کو ہلاک کیا تھا

ڈاکٹر آفریدی کو پاکستانی حکام نے بن لادن کی ہلاکت کا باعث بننے والے خفیہ امریکی فوجی آپریشن کے کچھ ہی عرصے بعد گرفتار کر لیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ اس کے اسلام کے نام پر عسکریت پسندانہ کارروائیاں کرنے والے شدت پسندوں کے ساتھ رابطے تھے۔ شکیل آفریدی اپنے خلاف ان الزامات کی نفی کرتا ہے۔

اس پس منظر میں روئٹرز نے آج بدھ کو پاکستانی اخبار ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستانی وزیر قانون زاہد حامد نے سینیٹ یا ملکی پارلیمان کے ایوان بالا کے ارکان کو بتایا ہے کہ اسلام آباد حکومت نہ تو شکیل آفریدی کو رہا کرے گی اور نہ ہی اسے ملک بدر کر کے واشنگٹن کے حوالے کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں وزیر قانون نے ارکان سینیٹ کو بتایا، ’’قانونی کارروائی جاری ہے اور شکیل آفریدی کو مقدمے کی منصفانہ سماعت کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔‘‘ روئٹرز نے لکھا ہے کہ پاکستانی وزیر قانون نے یہ بات سینیٹ کے ایک رکن کی طرف سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہی کہ آیا چند غیر مصدقہ رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر آفریدی کو ممکنہ طور پر رہا کیا جانے والا ہے۔

Pakistan Gericht in Peschawar ordnet Stopp der US-Drohnenangriffe an (picture-alliance/dpa)

شکیل آفریدی کو ایک قبائلی عدالت کی طرف سے سنائی گئی تینتیس برس قید کی سزا پشاور ہائی کورٹ نے منسوخ کر دی تھی

زاہد حامد نے ایوان بالا کے ارکان کو بتایا، ’’ڈاکٹر آفریدی نے پاکستانی قانون اور قومی مفادات کے برعکس کام کیا۔ پاکستانی حکومت کئی بار امریکا کو بھی بتا چکی ہے کہ ملکی قانون کے تحت شکیل آفریدی نے جرم ک‍ا ارتکاب کیا اور اسے اس وقت اپنے خلاف قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔‘‘

شکیل آفریدی کو 2012ء میں لشکر اسلام نامی ایک عسکریت پسند گروہ کا رکن ہونے کے الزام میں 33 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 2013ء میں یہ فیصلہ منسوخ کر دیا گیا تھا اور آفریدی پر اس سے بھی آٹھ سال پہلے ایک مریض کی موت کے سلسلے میں قتل کا الزام عائد کر دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی یہ پاکستانی ڈاکٹر جیل میں بند ہے اور اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے انتظار میں ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات