1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شکار پور میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ ناکام

پاکستان کے جنوبی شہر شکار پور میں ایک شیعہ امام باڑے پر مبینہ خود کش حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ اس حملے میں شریک ایک حملہ آور بارودی جیکٹ اڑانے سے مرا جبکہ دوسرا پولیس کی گولی کا نشانہ بن کر زخمی ہو گیا۔

پاکستانی صوبہٴ سندھ کی پولیس کے سینیئر اہلکار بہاردین کیریو نے بتایا کہ شکارپور کی ایک امام بارگاہ پر دہشت گردانہ حملہ اُس وقت ناکام بنا دیا گیا جب ایک خودکش حملہ آور نے تلاشی کے وقت ہی اپنی بارودی جیکٹ سے دھماکا کر دیا۔ یہ حملہ ایک ایسے روز کرنے کی کوشش کی گئی جب سارے پاکستان میں ہر مسلک و عقیدہ کے مسلمان عیدالاضحیٰ منا رہے ہیں۔

شکار پور کا ضلع پاکستان کے مالیاتی مرکز کراچی کے شمال میں واقع ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ دو خودکش حملہ آور خان پور امام بارگاہ کے لیے قائم سکیورٹی چیک پوائنٹ سے آگے بڑھنے کی کوشش میں تھے لیکن پولیس کی مداخلت سے وہ اپنے خوفناک منصوبے پر عمل درآمد نہ کر سکے۔ اس دھماکے میں چار پولیس افسران کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق ایک اہلکار کی حالت انتہائی نازک ہے۔

Pakistan Bombenanschlag auf eine Moschee in Shikarpur Protest 30.01.2015

خودکش حملے کی ناکامی کے بعد پاکستان میں سکیورٹی چوکس کر دی گئی ہے

شکار پور کے مقامی پولیس اہلکار عمر طفیل کے مطابق زخمی ہونے والے دوسرے خود کش بمبار کی حالت بھی کافی نازک ہے۔ ہسپتال میں ڈاکٹر اُس کی جان بچانے کی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طفیل نے بتایا کہ دوسرا حملہ آور بروقت اپنی باروی جیکٹ اڑانے میں ناکام رہا تھا اور اُس پر امام بارگاہ میں عید کی نماز کے لیے جمع ہونے والے لوگوں نے قابو پا لیا۔ تب پولیس اہلکار اپنے زخمی ساتھیوں کی جان بچانے میں مصروف ہو گئے تھے۔

صوبے سندھ کی پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ نے بھی پولیس کی جانب سے حملے کو ناکام بنانے کی بروقت کارروائی کی تعریف کی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی حان نے بھی خودکش حملہ ناکام بنانے والے زخمی پولیس اہلکاروں کی ہمت اور حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں کو ناکام بنانے میں پولیس نے کبھی بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا۔

اسی شکار پور شہر کی ایک دوسری امام بارگاہ پر سن 2015 میں کیے گئے ایک حملے میں کم از کم اکسٹھ عبادت گزار ہلاک ہو گئے تھے۔ اِس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔