1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شٹٹ گارٹ: مہاجرین کی حمایت میں ریلی، ہزاروں افراد کی شرکت

جرمنی کے شہر شٹٹ گارٹ میں اکیاسی مختلف تنظیموں نے ’سب رک جاؤ!‘ کے نعرے کے ساتھ جرمنی میں تشدد کے خلاف ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا۔ شدید سرد موسم کے باوجود اس ریلی میں سات ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔

جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ سخت سردی کے باوجود جرمنی کے شہر شٹٹ گارٹ میں سات ہزار مظاہرین نے تارکین وطن پر حملوں اور اجنبیوں سے نفرت کے خلاف نکالی گئی ایک ریلی میں شرکت کی۔ اس دوران کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

ریلی کے شرکاء نے تارکین وطن کے خلاف کیے جانے والے تشدد اور غیر ملکیوں سے نفرت کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے۔ علاوہ ازیں کچھ مظاہرین نے جرمنی کی جانب سے اسلحہ برآمد کرنے کے خلاف بھی بینر اٹھا رکھے تھے۔

جرمن شہر وُرٹمبرگ کے پروٹسٹنٹ چرچ کے بشپ فرانک اوٹفریڈ یولی بھی اس ریلی میں شریک تھے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اگر ہم انسانیت سے نفرت کے نظریے کو پنپنے کا موقع دے دیں تو یہ بہت مضحکہ خیز بات ہو گی۔‘‘

بشپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ عورتوں اور مردوں میں برابری بھی بنیادی اقدار میں شامل ہے۔ بشپ کے مطابق، ’’ہمیں بطور مسیحی، مسلمان، یہودی یا بطور ملحد بھی تشدد کے خلاف یکساں موقف اختیار کرنا چاہیے۔‘‘

ریلی میں شریک فرائی بُرگ کے کیتھولک چرچ سے منسلک مارٹینا کاسٹنر کا کہنا تھا کہ ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو مدد چاہیے، انہیں مدد فراہم کی جائے۔‘‘

جرمن ٹریڈ یونین کی تنظیم ڈی جی بی کی مقامی شاخ کی سربراہ گابریئلے برانزر وولف بھی مظاہرین میں موجود تھیں اور وہ بلند آواز میں نعرے لگا رہی تھیں: ’’ہمیں نفرت انگیز تقریریں نہیں سننا، ہمیں جلتے ہوئے گھر نہیں دیکھنا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ مجبور اور بے وطن مہاجرین پر سیاست کرنے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سال نو کے موقع پرکولون میں خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس ’قبیح فعل‘ قرار دیا۔

Stuttgart Kundgebung gegen Rassismus und Gewalt

ریلی کے شرکاء نے نسل پرستی، تشدد، تعصب اور جنسی حملوں کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے

صوبائی ملازمین کی تنظیم کے بورڈ کے ممبر بھی اس مظاہرے میں اپنی تنظیم کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں مہاجرین کی تعداد کی حد مقرر کرنے پر بات کی جانا چاہیے۔ لیکن اس کی آڑ میں نسل پرستی، تعصب اور تشدد کو جرمن معاشرے میں پروان چڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس موقع پر انتیس سالہ شامی مہاجر خاتون، خلود الشیخ صالح بھی موجود تھی۔ صالح نے اسٹیج پر جا کر مظاہرین کو اپنی ہجرت کے بارے میں بتایا۔ خلود الشیخ صالح نے کولون میں سال نو کے موقع پر کیے گئے جنسی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم عورتوں کے حقوق کے حامی ہیں۔‘‘

DW.COM