1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

شوگر ٹیسٹ اب خون کی بجائے آنسو کے ذریعے

امریکہ کے ماہرین نے خون میں شوگر کی مقدار جانچنے کے لیے ایک نیا آلہ تیار کیا ہے۔ اس آلے میں مریض کی آنکھ سے حاصل شدہ سیال مادے یعنی آنسو کے ذریعے خون میں شوگر کی بالکل درست مقدار جانچی جاسکے گی۔

default

امریکہ میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 23 ملین سے زائد ہے اور یہ بیماری امریکہ میں ہلاکتوں کی پانچویں سب سے بڑی وجہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ ذیابیطس کی وجہ سے کئی دیگر امراض کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں جن میں دل کے امراض، نابینا پن، گردوں کی خرابی، اعضاء کا کاٹا جانا اور دیگر کئی طرح کے طبی مسائل شامل ہیں۔

Diabetes Flash-Galerie

شوگر تیسٹ کرنے کے لئے اب خون کے نمونے کے بجائے آنسو کے نمونے کا استعمال کیا جا سکے گا

ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان کے خون میں شوگر کی مقدار ایک مقررہ حد کے اندر رہے اور ڈاکٹرز مریض کو ہی یہ تجویز کرتے ہیں کہ اپنے خون میں شوگر کی مقدار باقاعدگی سے مانیٹر کریں۔ بعض مرتبہ اس مقصد کے لیے خون کا ٹیسٹ دن میں کئی مرتبہ کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ شوگر لیول چیک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مریض سوئی کے ذریعے اپنی اگلی میں چھید کرے جو کافی تکلیف دہ ہوتا ہے لہذا اکثر مریض اپنا شوگر لیول چیک کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔

تاہم امریکہ کے طبی ماہرین کی ایک نئی ایجاد کے ذریعے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے شوگر لیول چیک کرنے کا تکلیف دہ عمل اب آسان ہوگیا ہے۔ خون میں گلوکوز کا پتہ لگانے والے اس نئے آلے کی مدد سے مریض کی آنکھ سے لیے گئے سیال مادے یعنی آنسو کے ذریعے خون میں موجود شوگر کی مقدار کا پتہ چلایا جاسکے گا۔

Diabetes

عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق ذیابطیس کے باعث دنیا میں ہر سال پانچ فیصد اموات ہوتی ہیں

یہ آلہ تیار کرنے والے ماہرین کے مطابق آنسو کے ذریعے بھی بالکل اسی درستی سے شوگر لیول معلوم کیا جاسکتا ہے جو خون کے ٹیسٹ سے معلوم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کی ٹیم میں شریک بائیوانجینئر جیفری ٹی لابیلے کے مطابق خون میں شوگر کی مقدار جانچنے والے موجودہ نظام میں چونکہ مریضوں کو اپنی انگلی میں تکلیف دہ چھید کرنا پڑتا ہے لہذا وہ یہ ٹیسٹ کرنے سے گھبراتے ہیں، مگر ان نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے مریضوں کو اس تکلیف دہ عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا لہذا ان کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ زیادہ باقاعدگی سے اپنا شوگر لیول چیک کریں۔ لابیلے نے امید ظاہر کی کہ اس کا نتیجہ ذیابیطس کے زیادہ بہتر کنٹرول کی صورت میں نکلے گا۔

تاہم اس نئی ایجاد کو مریضوں تک پہنچنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے طبی اداروں سے اس کی باقاعدہ توثیق کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عابدحسین

DW.COM