1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’شور بہت ہو گیا، مساجد، گرجے اور نائٹ کلب سب بند‘

افریقہ کے سب سے بڑے شہر لاگوس میں شور کو کم کرنے کے لیے درجنوں مساجد، گرجے اور نائٹ کلب بند کر دیے گئے ہیں۔ اس شہر کے ایک حصے کو ’پرسکون‘ بنانے کی حکومتی مہم جاری ہے۔

نائجیریا کے شہر لاگوس کی آبادی 20 ملین ہے اور یہاں کی شہری انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر کا ساحلی علاقہ ہر طرح کے شور سے پاک کر دیا جائے۔ اس کے لیے سن 2020ء کی ڈیڈلائن رکھ کر مساجد، گرجا گھر اور نائٹ کلب بند کیے جانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اب تک درجنوں عبادت اور رقص گاہیں بند کی جا چکی ہیں۔

لاگوس کی تحفظِ ماحول کی سرکاری ایجنسی کے جنرل مینیجر ادیبولا شابی کے مطابق، ’‘یہ ایک بڑا کام ہے۔ مطالعاتی رپورٹیں بتا رہی ہیں کہ شور کی سطح سے تشدد کے واقعات میں اضافہ اور انسانی صحت پر مضر اثرات پڑتے ہیں اور اس کا تدارک نہایت ضروری ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ رواں برس اب تک یہ ایجنسی شور کی بنیاد پر 70 گرجے اور 20 مساجد بند کرا چکی ہے، اس کے ساتھ ساتھ درجنوں پب، ہوٹل اور کلب بھی بند کیے جا چکے ہیں۔

Symbolbild Christentum Judentum Islam

شور کی شکایت پر کسی بھی مسجد، گرجے یا نائٹ کلب کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ حکام نے یہ اقدامات مقامی افراد کی جانب سے شکایات موصول ہونے کے بعد اٹھائے گیے۔ ’’پہلے تو ان مساجد، گرجوں اور کلبز کے مالکان کو بلا کر سمجھایا گیا، مگر جب انہوں نے شور کا سلسلہ جاری رکھا، تو انہیں بند کر دیا گیا۔‘‘

ایک مقامی رہائشی کے مطابق، ’’میرے علاقے میں ایک گرجا ہے اور ایک مسجد ہے۔ دونوں میں ایک طرح سے یہ مقابلہ جاری رہتا ہے کہ زیادہ بلند آواز کس کی ہے۔ جب مسلمان ایک اسپیکر لاتے ہیں تو مسیحی اس سے بڑا خرید لاتے ہیں۔‘‘

اس شخص کا مزید کہنا تھا، ’’مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں صبح تین بجے اذانیں شروع ہو جاتی تھیں، جب کہ رات کو دیر گئے گرجے سے گیت نشر ہوتے رہتے تھے۔ ہمیں پوری پوری رات ایک طرح سے جاگنا پڑتا تھا۔‘‘

تاہم ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق مقامی رہائشی مساجد یا گرجا گھروں سے متعلق شکایت کرنے میں خوف اور گھبراہٹ بھی محسوس کرتے ہیں۔ ’’جب آپ حکام کو بتاتے ہیں کہ انہیں شور سے روکا جائے، تو یا کلیسا آپ کو مسیحی مخالف یا مسلمان اسلام مخالف سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ گلیوں میں دشمنی کی صورت میں نکلتا ہے۔‘‘