1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شورش زدہ لیبیا تیل کی برآمدی صنعت بحال کرنے کی کوشش میں

جہادیوں کے حملوں اور سیاسی رسہ کشی کے شکار ملک لیبیا میں اب یونٹی حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح تیل کی برآمدی صنعت کو دوبارہ زندہ کیا جائے، تاکہ تباہ حال ملکی معیشت کو ایک مرتبہ پھر پیروں پر کھڑا کیا جا سکے۔

کئی دہائیوں تک مطلق العنان حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا مختلف عسکری گروہوں کے درمیان علاقوں پر قبضے کے لیے لڑی جانے والی لڑائیوں کی نذر ہو چکا ہے۔ معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کو پانچ برس ہو جانے کے باوجود وہاں اب تک کوئی فعال حکومت قائم نہیں ہو سکی اور نہ ہی ان عسکری گروہوں کو غیرمسلح کیا جا سکا ہے جب کہ اس تمام صورت حال نے لیبیا میں تیل کی صنعت کو ایک طرح سے مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

لیبیا میں شدید سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ وہاں شدت پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے مضبوط ہوتے نیٹ ورک اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کی وجہ سے بھی تیل کی برآمد جمود کا شکار ہے۔

افریقہ میں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر کا حامل ہونے کے باوجود یہ ملک گزشتہ چند ماہ میں خام تیل کے کچھ ہی ٹینکر برآمد کر پایا ہے۔ لیبیا میں تیل کے ذخائر کا حجم قریب 48 ارب بیرل بتایا جاتا ہے۔

Lybien Brand in Ras Lanuf

شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہی ہے

یکم اگست کو طرابلس میں قائم قومی تیل کمپنی (NOC) نے اعلان کیا کہ وہ خام تیل کی برآمد کو دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا فی الحال عالمی منڈیوں میں تیل کی مکمل ترسیل کی سرگرمیوں سے خاصا دور ہے۔

توانائی کے حوالے سے مشاورتی ادارے ریپیڈان گروپ سے وابستہ ماہر اسکاٹ موڈیل کا کہنا ہے، ’’قومی تیل کمپنی کا ملکی بندرگاہوں سے تیل کی برآمد کا اعلان اپنی جگہ مگر ابھی ان بندرگاہوں کی مرمت اور دیگر امور کی وجہ سے اس سارے معاملے میں وقت درکار ہو گا۔‘‘

ان کا مزید کہنا ہے، ’’لیبیا کی قومی تیل کپمنی کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ خام تیل کی برآمدات کے لیے تمام ملکی بندرگاہیں استعمال کرے گی، فی الحال قابل عمل دکھائی نہیں دیتا کیوں کہ اس کا دار و مدار وہاں جاری سیاسی عمل اور استحکام پر بھی ہے۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ سن 2010ء میں لیبیا ایک اعشاریہ پانچ ملین بیرل یومیہ خام تیل برآمد کرتا تھا، تاہم اب یہ برآمدات تین لاکھ بیرل یومیہ تک گر چکی ہیں۔