1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

شنگھائی ایکسپو اختتام کو پہنچ گئی

ورلڈ ایکسپو چھ ماہ جاری رہنے کے بعد اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ بیجنگ حکومت نے شنگھائی میں اس نمائش کے اہتمام پر 45 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی ۔

default

اختتامی تقریب کا منظر

شنگھائی ایکسپو کے منتطمین کے مطابق چھ ماہ کے عرصے میں سات کروڑ سے زائد افراد نے نمائش کا دورہ کیا۔ شائقین کی تعداد ایک ریکارڈ ثابت ہوئی ہے، جس نے 1970ء میں جاپان کے شہر اوساکا میں ہونے والی ورلڈ ایکسپو کو دیکھنے والوں کی تعداد کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اوساکا ایکسپو دیکھنے والے افراد کی تعداد تقریباﹰ ساڑھے چھ کروڑ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ حکام نے شنگھائی ایکسپو کو بیجنگ اولمپکس سے بھی بڑا ایونٹ قرار دیا۔

بعض بین الاقوامی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ ورلڈ ایکسپو کی159 سالہ تاریخ میں شائقین کی شرکت کے حوالے سے شنگھائی ایکسپو کو انتہائی منظم ایونٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی اختتامی تقریب میں چینی وزیر اعظم کے ساتھ متعدد غیر ملکی مہمان شریک ہوئے۔

یہ پہلو اہم ہے کہ نمائش دیکھنے والوں کی مجموعی تعداد میں سے بیشتر چینی شہری خود تھے، جو ملک کے دور دراز علاقوں سے وہاں پہنچتے رہے۔ چین کے سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ مقامی شہریوں کے لئے دوسرے ملکوں کی ثقافت اور تمدن کو دیکھنے اور جاننے کا یہ عمدہ موقع تھا۔

اس نمائش کے لئے صوبوں اور مقامی حکومتوں نے بھی خصوصی ٹورز منعقد کئے، جن سے چین کی کثیر آبادی ورلڈ ایکسپو کے میدان تک رسائی کے قابل ہوئی۔

اس نمائش 190 ملکوں نے شرکت کی۔ اس میں چین کے بعد سب سے مہنگا پیولین سعودی عرب کا تھا، جس میں دنیا کی سب سے بڑی IMAX سکرین نصب تھی۔ اسے نمائش کے بہترین پیولینز میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ جرمنی، چلی اور سویڈن کے پیولینز بھی مثالی تھے۔

EXPO Shanghai 2010 Flash-Galerie

شنگھائی ایکسپو دیکھنے والوں میں غیر ملکی بھی شامل تھے

جہاں اس نمائش کے اہتمام پر چینی حکام داد و تحسین سمیٹ رہے ہیں، وہیں اس پر مقامی سطح پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ نمائش کے وسیع احاطے کے لئے ہزاروں افراد کو منتقلی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ شنگھائی میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع کے ساتھ ساتھ پلوں کی آرائش اور تعمیر نو کے علاوہ نئے اوور ہیڈ اور زیر زمین کراسنگ بھی بنائی گئیں، جس سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ نمائش کے اہتمام پر جو رقم خرچ کی گئی، اس کو بے جا اسراف کا نام دیا گیا ہے۔

2015 ء کی ورلڈ ایکسپو کا میزبان شہر اٹلی کا تجارتی اور فیشن مرکز میلان ہے۔ اس کے میئر Letizia Moratti نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ ان کے ہاں شنگھائی جیسی طرز کی نمائش نہیں ہو سکتی۔ ہر دوسال بعد منعقد کی جانے والی عالمی نمائش کا آئندہ پڑاؤ 2012ء میں جنوبی کوریا کے شہر Yeosu میں ہے۔ یہ نمائش مئی میں شروع ہو گی اور چار ماہ جاری رہے گی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس