1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شنگریلا میں سڑک، جینز اور سیٹلائٹ ٹی وی بھی لے آئی

ہمالیہ کا علاقہ شنگریلا 1992ء تک سیاحوں کے لیے بند تھا، مگر نیپال کے بالائی مستانگ علاقے میں موجود بدھ مت کا یہ سابق پایہ تخت اب بے مثال تبدیلیوں سے گزر رہا ہے کیونکہ ایک نئی ہائی وے اس علاقے میں جدیدیت بھی لے آئی ہے۔

تبت کی سرحد کے ساتھ ملنے والے اس علاقے میں مٹی کے تیل سے چلنے والے لیمپوں کی جگہ اب سولر پینلز نے لے لی ہے، روایتی کپڑوں اور جوتوں کی جگہ اب جینز اور ہاتھوں سے تیار کردہ گائے کے چمڑے سے بنے بوٹ اور علاقے کی چھتوں پر سیٹلائٹ ڈِش بڑھتے جا رہے ہیں۔

اس علاقے کے رہائشی سیوانگ نوربو گورونگ ان تمام تبدیلیوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے گفتگو کرتے ہوئے گورونگ کا کہنا تھا، ’’مجھے یاد ہے جب یہاں 10 برس سے کم عرصہ قبل یہاں پہلا نیپالی ٹی وی یہاں دیکھا جانے لگا۔ ہم کسی کے گھر میں تین گھنٹے تک ٹی وی کی نشریات دیکھنے کے لیے 20 روپے ادا کیا کرتے تھے۔‘‘

آج قریب ہر گھر میں اپنا ٹیلی وژن سیٹ ہے جو یا تو بھارت سے درآمد کیا گیا ہے یا پھر چین سے اور 30 سالہ گورونگ جیسے جوان لوگ اب اپنے گھروں میں ہی بیٹھ کر بولی ووُڈ فلموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ تبت کے مذہبی ڈرامے اور فٹبال میچز بھی یہاں کے ناظرین کے پسندیدہ ہیں۔

گورونگ کا پرانے دن یاد کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’پہلے ہر چیز، چاول، تیل اور دیگر بنیادی اشیاء کو خچروں پر لاد کر یہاں لایا جاتا تھا جس میں ہفتوں لگ جاتے تھے، اب صرف ایک دن میں گاڑی کے ذریعے ایسی تمام اشیاء یہاں پہنچ جاتی ہیں۔‘‘

اس علاقے تک صرف پیدل یا پھر گھوڑوں یا خچروں کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا تھا

اس علاقے تک صرف پیدل یا پھر گھوڑوں یا خچروں کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا تھا

نیپال نے ’کنگڈم آف لو‘ کہلانے والے اس علاقے کو 18ویں صدی میں اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا مگر یہاں کے بادشاہ کو اجازت دے دی کہ وہ اپنا خطاب رکھ سکتے ہیں۔ اس علاقے کو اپر یا بالائی مستانگ کا نام بھی دے دیا گیا۔

کئی دہائیوں تک اس علاقے میں شاذ ونادر ہی کوئی سیاح آیا ہو، کیونکہ اس علاقے تک صرف پیدل یا پھر گھوڑوں یا خچروں کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا تھا۔ اسی باعث یہ علاقہ بقیہ دنیا سے تقریباﹰ کٹا ہوا تھا۔ تاہم چند برس قبل اس علاقے تک سڑک بچھائی گئی۔

اپر مستانگ کے علاقے میں کوئی ہائی اسکول بھی نہیں تھا مگر اب یہاں کے بچے اور نوجوان تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس تمام تر ترقی اور بیرونی دنیا سے تعلق نے اس علاقے کے رہائشیوں میں اپنی ثقافت کھو جانے کا خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے۔ دکاندار گورونگ کا تاہم یہی کہنا ہے کہ وہ مستقبل کے حوالے سے بہت پر امید ہیں کیونکہ چیزیں بہتر ہو رہی ہیں اور زندگی آسان سے آسان ہوتی جا رہی ہے۔