1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شناخت چھپانے کی صورت میں مہاجرین کا موبائل بھی ضبط

پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے اکثر تارکین وطن حکام کو اپنی شناختی دستاویزات فراہم نہیں کرتے اور اکثر اپنی قومیت کے بارے میں بھی غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ جرمن حکام اب ایسے افراد کے موبائل فون سے ان کی شناخت کریں گے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق وفاقی جرمن حکومت نے تارکین وطن کی شناخت یقینی بنانے کے لیے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (BAMF) کو پناہ کے متلاشی افراد کے موبائل فون تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی اے ایم ایف اب مہاجرین سے ان کا موبائل فون طلب کر سکے گا۔

’جو جتنی جلدی واپس جائے گا، مراعات بھی اتنی زیادہ ملیں گی‘

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

جرمنی کے عوامی نشریاتی اداروں ڈبلیو ڈی آر اور این ڈی آر نے جرمن اخبار ’زود ڈوئچے سائٹنگ‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے تیار کیے گئے ایک قانونی مسودے میں یہ بات واضح طور پر درج کی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ’’پناہ گزینوں کی لازمی وطن واپسی کا عمل بہتر بنانا ہے۔‘‘ وفاقی جرمن ریاست ہیسے کے وزیر اعلیٰ فولکر بوفیئر نے بھی اس منصوبے کی تصدیق کی ہے۔

اب تک پناہ گزینوں کی رضامندی کے بغیر بی اے ایم ایف کو ان کے فون تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ نئے قانون کے اطلاق کے بعد جرمن اداروں کے لیے پناہ گزینوں کی اجازت طلب کرنا لازمی نہیں ہو گا۔ علاوہ ازیں جرمن اداروں کو اب تک صرف جرائم میں ملوث غیر ملکیو‌ں کے موبائل فون کا ریکارڈ دیکھنے کی اجازت تھی لیکن نئے قوانین کے مطابق بی اے ایم ایف کے اہلکار کسی بھی تارک وطن سے موبائل فون طلب کر سکتے ہیں۔

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ کے اندازوں کے مطابق گزشتہ موبائل فون یا اس طرح کے دیگر آلات، جنہیں ڈیٹا کیریئر بھی کہا جا سکتا ہے، کی مدد سے پچاس سے ساٹھ فیصد پناہ گزینوں کی حقیقی شناخت ممکن ہو سکتی تھی۔ یوں یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ جرمن حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد اپنے ذاتی کوائف اس لیے چھپاتے ہیں تاکہ انہیں جرمنی سے ملک بدر نہ کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں تارکین وطن ممکنہ طور پر جرمنی میں مہیا کی جانے والی سماجی امداد کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے بھی اپنے بارے میں غلط معلومات مہیا کرتے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس مقصد کے لیے بی اے ایم ایف کے ملک بھر میں موجود دفاتر میں نئے آلات اور سافٹ ویئرز کی تنصیب کی جائے گی۔ یوں بی اے ایم ایف کا عملہ روزانہ چوبیس سو سے زائد موبائل فون اور دیگر آلات سے حاصل کیے جانے والے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کر پائے گا۔

وفاقی ریاست ہیسے کے وزیراعلیٰ کا تاہم کہنا تھا کہ صرف ایسے تارکین وطن کے موبائل فون ضبط کیے جائیں گے جن کی شناخت غیر واضح ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کی حقیقی شناخت جاننے کے لیے ’’تمام تر وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔‘‘

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

جرمنی: طیارے آدھے خالی، مہاجرین کی ملک بدری میں مشکلات حائل

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات