1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

شمسی طوفانوں کے خطرات بڑھتے ہوئے، امریکی ماہر

سمندروں اور زمینی فضا کے بارے میں معلومات رکھنے والے امریکی ادارے کی ایک سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ شمسی طوفانوں سے دنیا کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

default

امریکی ادارے ’نیشنل اوشینک اینڈ ایٹماسفیریک ایڈمنسٹریشن‘ (NOAA) کی اسسٹنٹ سیکرٹری کیتھرین سلیون Kathryn Sullivan کے مطابق ان شمسی طوفانوں سے دنیا کے اہم انفرا سٹرکچر، جس میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن، نیوی گیشن سسٹم اور الیکٹرکل ٹرانسمیشن کے آلات کوخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

موسم کے حوالے سے جنیوا میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس کے دوران کیتھیرین سلیون کا کہنا تھا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا یہ طوفان آسکتا ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کب ایک بہت بڑا شمسی طوفان ہمارے سیارہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔

کیتھرین سلیون کے بقول سال 2013ء میں ان شمسی طوفانوں کی شدت اپنی انتہا پر ہوگی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مختلف ممالک کو ان شمسی طوفانوں کے انتہائی تباہ کن خطرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ شمسی طوفانوں کے دوران ایسے پارٹیکلز خارج ہوتے ہیں جو نازک کمپیوٹر نظاموں کو نہ صرف بند کرسکتے ہیں بلکہ مکمل طور پر تباہ بھی کرسکتے ہیں۔

شمسی طوفان سورج کی سطح پر موجود 'سن سپاٹس‘ کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں

شمسی طوفان سورج کی سطح پر موجود 'سن سپاٹس‘ کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں

سلیون ایک سابق خلاء باز ہیں اور وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں 1984ء میں پہلی بار خلاء میں چہل قدمی کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ خلائی تحقیق میں مصروف سائنسدان اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ مستقبل قریب میں سورج کی سرگرمی میں اضافہ متوقع ہے، جس سے سورج کی سطح پر بڑے بڑے طوفان اٹھنے کا خدشہ ہے۔

شمسی طوفان دراصل سورج کی سطح پر موجود مخصوص حصوں، جنہیں 'سن سپاٹس‘ کہا جاتا ہے، کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں اور یوں سورج کی سطح پر بڑے بڑے شعلے اٹھتے ہیں۔ اس دوران برقی طور پر چارج شدہ ذرات خلا میں پھیل جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ چارجڈ پارٹیکل جدید الیکٹرانک آلات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق سورج کی اس سرگرمی میں اضافہ عمومی طور پر ہر 11 برس بعد ہوتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ لمبے عرصے کے بعد اس سرگرمی میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

شمسی طوفان کے باعث برقی طور پر چارج شدہ ذرات خلا میں پھیل جاتے ہیں

شمسی طوفان کے باعث برقی طور پر چارج شدہ ذرات خلا میں پھیل جاتے ہیں

اکیسویں صدی میں رہنے والے لوگ عام طور پر ہائی ٹیک نظاموں پر انحصار کرتے ہیں لیکن سائنسدانوں کے مطابق بجلی کی ترسیل کے لیے بنائے گئے سمارٹ گرڈز، گلوبل پوزیشننگ سسٹم کے ذریعے مختلف مقامات کا پتہ چلانے والا نیویگیشن سسٹم، فضائی سفر اور رابطوں کے لئے ریڈیو کمیونیکیشن سسٹم، تمام کے تمام اس شمسی سرگرمی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔سال 2008ء میں امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایک بڑا شمسی طوفان کاترینا نامی سمندری طوفان سے 20 گنا زیادہ تباہی لاسکتا ہے۔

امریکی ریاست کولوراڈو میں قائم سمندری اور فضائی تحقیقی ادارے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے ڈائریکٹر تھامس بوگڈان نے گزشتہ برس کہا تھا کہ خلائی موسم کی پیشین گوئی کا شعبہ ابھی بہت ہی ابتدائی مراحل میں ہے تاہم اس میں تیزی سے ترقی جاری ہے۔ بوگڈان کے مطابق NASA اور NOAA مل کر ایسے مصنوعی سیاروں پر کام کر رہے ہیں، جو سورج پر نظر رکھتے ہیں اور اس پر آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں پیشین گوئی کرنے میں معاون ہوں گے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس