1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

شمسی توانائی: چینی شخصیت کے لیے متبادل نوبل انعام

اس سال جن چار شخصیات اور اداروں کو ’رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ‘ یا متبادل نوبل انعام سے نوازا گیا ہے، اُن میں ماحول دوست شمسی توانائی کے فروغ کے لیے کوشاں ایک چینی کاروباری شخصیت ہوانگ مِنگ بھی شامل ہیں۔

default

53 سالہ ہوانگ مِنگ کو دیا جانے والا انعام اعزازی نوعیت کا ہے اور اِس کے ساتھ کوئی رقم نہیں دی جائے گی۔ اُنہیں یہ اعزاز اُن کی اُن کوششوں کے لیے دیا جا رہا ہے، جو وہ بہت بڑے پیمانے پر کوئلے سے بجلی حاصل کرنے والے ملک چین میں شمسی توانائی کے ماحول دوست ذریعے کے فروغ کے لیے کر رہے ہیں۔

ہوانگ مِنگ کے شمسی توانائی کے ادارے کا ہیڈکوارٹر مشرقی چینی صوبے شان ڈونگ کے صنعتی شہر دےژُو میں ہے۔ پیشے کے اعتبار سے ہوانگ مِنگ معدنی تیل نکالنے کے شعبے میں سرگرم عمل ایک انجینئر ہیں تاہم یہ بہت پہلے کی بات ہے۔ اب تو وہ توانائی کے ماحول دوست ذرائع کے علمبردار ہیں اور ایک صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک مستقبل اُن کی تمام تر کوششوں کا مرکز و محور ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں سے وہ شمسی توانائی سے چلنے والے ایسے آلات بنا رہے ہیں، جو لاکھوں گھروں میں ماحول دوست طریقے سے گرم پانی فراہم کر رہے ہیں۔

ہوانگ مِنگ بتاتے ہیں:’’پانی اُبالنے کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے آلات اب تک بیس یا تیس ملین ٹن کوئلے کی بچت کر چکے ہیں۔ ماحول کے تحفظ کے لیے یہ بہت بڑی بات ہے۔‘‘

یہ ٹیکنالوجی بہت ہی سادہ ہے۔ چھتوں پر شیشے کے دہرے پائپوں کے ذریعے شمسی توانائی جذب کی جاتی ہے اور اُس کی مدد سے ٹینکیوں میں پانی کو گرم کیا جاتا ہے۔ چین کے بہت سے علاقوں میں چھتوں پر یہ پائپ نصب نظر آتے ہیں۔ اِن پائپوں کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہوانگ مِنگ کے ادارے Himin کا کردار دُنیا بھر میں قائدانہ نوعیت کا ہے۔ خود اُن کے اپنے ادارے کے ہیڈکوارٹر میں بھی شمسی توانائی کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔

ہوانگ مِنگ کہتے ہیں:’’شمسی توانائی کو فروغ دینا ہو گا اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہو گا۔ یہ میرا خواب تھا، میرا وژن تھا اور آج بھی یہ میرا خواب اور میرا اصل کام ہے۔‘‘

ہوانگ مِنگ کہتے ہیں:’’شمسی توانائی کو فروغ دینا ہو گا اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہو گا۔ یہ میرا خواب تھا، میرا وژن تھا اور آج بھی یہ میرا خواب اور میرا اصل کام ہے۔‘‘

اسی کئی منزلہ عمارت میں بجلی بچانے کے لیے لفٹیں محض ہر دوسری منزل پر رکتی ہیں۔ ہوانگ مِنگ بتاتے ہیں:’’پندرہ سال پہلے سے ہی آنے والی نسل کے لیے نیلا آسمان اور سفید بادل ہمارا نصب العین رہے ہیں۔ اِس مقصد کے لیے ہمیں شمسی توانائی کو فروغ دینا ہو گا اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہو گا۔ یہ میرا خواب تھا، میرا وژن تھا اور آج بھی یہ میرا خواب اور میرا اصل کام ہے۔‘‘

پانی گرم کرنے والے شمسی آلات نے ہوانگ مِنگ کو بے حد دولت مند بھی بنا دیا ہے۔ وہ چین میں سیاسی شعبے میں بھی سرگرم عمل ہیں اور توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے متعلق چین میں جو نئے قوانین متعارف کروائے گئے ہیں، اُن میں بھی اُنہوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اُن کا خواب ہے کہ اُن کا شہر Dezhou کسی روز شمسی توانائی کے حوالے سے دُنیا بھر کے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کر جائے اور دیگر شہر بھی اِس شہر کی تقلید کرتے ہوئے قابل تجدید توانائیوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ متبادل نوبل انعام اُن کے لیے ایک اعزاز بھی ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اور زیادہ بھرپور انداز میں کوششیں کرنے کے لیے لیے ایک تحریک بھی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس