1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

شمسی توانائی سے اڑنے والا ہوائی جہاز پینسیلوینیا پہنچ گیا

سولر انرجی سے چلنے والا ہوائی جہاز سولر امپلس ٹُو امریکی ریاست پینسیلوینیا پہنچ گیا ہے۔ اس طرح دنیا کے گرد چکر لگانے کے ہدف میں اِس خصوصی ہوائی جہاز نے ایک منزل اور طے کر لی ہے۔

’ سولر امپلس ٹو‘ نے کل ریاست اوہائیو کے ڈیٹن ایئر پورٹ سے پرواز بھری تھی۔ شمسی توانائی سے چلنے والا ہوائی جہاز سست رفتاری سے پرواز کرتا ہوا تقریباً سترہ گھنٹوں میں ریاست پینسلوانیا کے لیہائی ویلی انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر پہنچا۔ جب یہ جہاز اترا تو اِس کا کنٹرول سوئٹزرلینڈ کے مہم جُو بیرٹرینڈ پیکارڈ کے پاس تھا۔ جہاز پر متبادل پائلٹ کے طور پر آندرے بورشبیرگ بھی سوار تھے۔ بورشبیرگ کا تعلق بھی سوئٹزرلینڈ سے ہے اور وہ ایک بزنس مین ہیں۔

لیہائی ویلی انٹرنیشنل پر اترنے سے قبل جہاز کے مرکزی پائلٹ بیرٹرینڈ پیکارڈ نے پیغام روانہ کیا کہ اب اُن کا جہاز نیویارک کے قریب پہنچ گیا ہے اور یہ ایک زبردست بات ہے۔ معاون پائلٹ نے لینڈنگ سے قبل دونوں پائلٹوں کے مزاج کو انتہائی خوشگوار بتاتے ہوئے پرواز کو بھی شاندار کہا۔ اس موقع پر بورشبیرگ نے سولر امپلس کو ایک حیرت انگیز ہوائی جہاز بھی قرار دیا۔ سولر امپلس ٹُو نے دنیا کے گرد چکر لگانے کے سلسلے کا آغاز نو مارچ سن 2015 کو کیا تھا۔ تب سے بیرٹرینڈ پیکارڈ اور آندرے بورشبیرگ ہی اِس کی پرواز کا حصہ ہیں۔

Hawaii Solar Impulse 2 Pilot Bertrand Piccard und Andre Borschberg

سولر امپلس ٹُو کے پائلٹ بیرٹرینڈ پیکارڈ اور متبادل پائلٹ آندرے بورشبیرگ

اب سولر امپلس ٹُو کی اگلی منزل نیویارک سٹی کا جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ ہے۔ اِس بات کا امکان ہے کہ سولر امپلس ٹُو تیس مئی کو نیویارک شہر کا نشان سمجھے جانے والے مجسمہٴ آزادی کے پاس سے گزرے گا۔ کئی فوٹوگرافر مجسمہٴ آزادی اور سولو امپلس ٹُو کی ایک ساتھ تصاویر لینے کے منتظر ہیں۔

ڈیٹن ایئر پورٹ سے لیہائی ویلی ہوائی اڈے تک کا سفر دنیا کے گرد چکر لگانے کی سولہویں منزل تھی۔ یہ ہوائی جہاز فضا میں اڑتالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ گزشتہ برس اِس کی بیٹریوں میں نقص بھی پیدا ہو گیا تھا اور اِس کی مرمت میں کئی ماہ لگ گئے تھے۔ بیٹریوں میں خرابی کی وجہ ہائی ٹراپیکل درجہٴ حرارت تھا اور سولر امپلس ٹو اُس وقت جاپانی شہر نگویا سے امریکی ساحلی شہر ہوائی کی جانب روانہ تھا۔

اس طیارے کے پروں پر سترہ ہزار سولر سیل نصب ہیں، جو انجن اور بیٹری کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ دن کے وقت یہ سورج کی روشنی سے پرواز کرتا ہے اور رات میں ذخیرہ کی گئی انرجی سے اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ سوئس پائلٹ برٹرینڈ پیکارڈ اپنے ہم وطن معاون کے ہمراہ دو نشست والے اس جہاز کے ذریعے دنیا کا نصف سے زائد سفر مکمل کر چکے ہیں۔

DW.COM