1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمسی ایئر بیس پاکستان کے حوالے، نیٹو سپلائی تاحال بند

امریکہ نے شمسی ایئر بیس کا کنٹرول پاکستانی افواج کے حوالے کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کے بقول امریکی فوجی اتوار کو اپنے تمام تر سازوسامان کے ہمراہ بلوچستان میں واقع اس ایئر بیس کو چھوڑ گئے۔

default

چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں واقع دو سرحدی چوکیوں پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ایک فضائی حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام نے واشنگٹن حکومت کو پندرہ دن کی مہلت دی تھی کہ وہ بلوچستان میں واقع اس ایئر بیس کو خالی کر دے۔

اتوار کی شب پاکستانی فوج کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوجیوں کی طرف سے اس ایئر بیس کو خالی کرنے کا سلسلہ گزشتہ ہفتہ سے ہی شروع کر دیا گیا تھا اور اتوار کو ان کا آخری جہاز بھی اس علاقے کو خیر باد کہہ گیا ہے، ’شمسی ایئر بیس کا کنٹرول پاکستانی افواج کے حوالے کر دیا گیا ہے‘۔

اس سے قبل پاکستانی افواج کے ایک اعلٰی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اس متنازعہ ایئر بیس کو خالی کرانے کا کام بغیر کسی دشواری اور مشکل کے سر انجام پا گیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اتوار کو امریکی فوجی اپنا تمام تر سامان لے کر دو پروازوں کے ساتھ اس ایئر بیس کو خالی کر گئے۔

Anti Terror Arbeit der USA Drohne NO FLASH

کہا جاتا ہے کہ امریکی افواج نے اسی ایئر بیس سے افغانستان سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں موجود القاعدہ تنظیم کے حامیوں کے خلاف ڈرون طیاروں کی مدد سے آپریشن بھی کیے۔

امریکہ پر نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد جب امریکی اتحادی افواج نے طالبان باغیوں کے خلاف عسکری کارروائی شروع کی تھی تو اس وقت اکتوبر 2001ء میں پاکستانی فوج نے اس ایئر بیس کو امریکہ کے حوالے کر دیا تھا تاکہ وہ افغانستان میں طالبان کی بغاوت کو کچلنے کے لیے اس مقام کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔

کہا جاتا ہے کہ امریکی افواج نے اسی ایئر بیس سے افغانستان سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں موجود القاعدہ تنظیم کے حامیوں کے خلاف ڈرون طیاروں کی مدد سے آپریشن بھی کیے۔

ادھر واشنگٹن میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے باوجود پاکستانی قبائلی علاقوں میں ڈورن طیاروں کی کارروائیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ایسا کوئی بھی آپریشن افغانستان سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خراب موسم کے باعث نچلی پروازوں کے لیے شمسی ایئر بیس ایک بہترین راستہ تھا۔

دوسری طرف پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل قریب تک نیٹو کی سپلائی بند رہے گی۔ نیٹو کے حالیہ حملے کے بعد سے پاکستان نے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے فوجی سپلائی بند کر دی تھی۔ نیٹو کے حملے کے بعد سے امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی نے اعتراف کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ جیتنے کے لیے دونوں ممالک کو بہتر رابطہ کاری کے ساتھ غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس