1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمسی ایئر بیس خالی کی جا رہی ہے، امریکی سفیر

پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ امریکہ وہ پاکستانی ایئر بیس خالی کر رہا ہے جو ماہرین کے بقول طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون طیاروں کی سروس کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

default

اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹوں میں خبر ایجنسی اے پی نے بتایا ہے کہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں اس فضائی اڈے کو دہشت گردوں کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس اس ایئر بیس کو صرف ڈرون طیاروں کی سروس اور دیکھ بھال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی سفیر منٹر کے بقول بلوچستان میں شمسی ایئر بیس نامی فضائی اڈے کواس لیے خالی کیا جا رہا ہے کہ اس بارے میں حکومت پاکستان کا مطالبہ پورا کیا جا سکے۔ مہمند ایجنسی میں 26 نومبر کو پاکستانی سکیورٹی دستوں کی دو چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملوں میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد حکومت پاکستان نے امریکہ سے جو مطالبات کیے تھے ان میں شمسی ایئر بیس کا خالی کیا جانا ایک بنیادی مطالبہ تھا۔

Nato Beschuss Pakistan


خبر ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ شمسی ایئر بیس خالی کیے جانے سے عسکریت پسندوں کے خلاف امریکی ڈرون حملوں پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ اس لیے کہ وہاں صرف ایسے ڈرون طیاروں کی سروس کی جاتی ہے جنہیں خراب موسم یا تکنیکی وجوہات کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس پاکستانی ایئر بیس کو خالی کرنے کا واشنگٹن کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے سے پہلے سے دباؤ کے شکار پاک امریکہ تعلقات کتنی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ یہ صورت حال افغانستان، امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں سے افغانستان میں جنگی حالات کے جلد از جلد خاتمے کی کوششوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
نیٹو فضائی حملے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر اپنے ہا‌ں سے نیٹو کی سپلائی لائن بھی روک دی تھی اور امریکہ کو شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا تھا۔ امریکہ کو دی گئی یہ مہلت11 دسمبر کو پوری ہو جائے گی۔ اس لیے اب امریکی سفیر نے کہہ دیا ہے کہ امریکہ شمسی ایئر بیس خالی کر رہا ہے۔

Angriff Nato-Hubschrauber in Pakistan


نیٹو فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ اسلام آباد جرمن شہر بون میں ہونے والی بین الاقوامی افغانستان کانفرنس میں شریک نہیں ہو گا۔ اس اعلان کے بعد
پاکستان سے کئی مرتبہ امریکہ سمیت مختلف ملکوں نے درخواست بھی کی کہ اسلام آباد کو بون میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے۔ لیکن پاکستانی حکومت اپنے اعلان پر قائم رہی۔ آج پیر کو بون میں ہونے والی افغانستان کانفرنس میں کوئی بھی پاکستانی نمائندہ شرکت نہیں کر رہا۔
امریکی سفیر منٹر نے شمسی ایئر بیس خالی کیے جانے سے متعلق پیر کو ایک پاکستانی ٹیلی وژن کو بتایا کہ امریکہ کی پوری کوشش ہو گی کہ یہ ایئر بیس اسے دی گئی مہلت کے اندر اور مقررہ تاریخ تک خالی کر دی جائے۔
امریکی سفیر نے اپنے بیان میں اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ آیا شمسی ایئر بیس کو ڈرون طیاروں کے حوالے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ سرعام اس بات کا اعتراف نہیں کرتا کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی ڈرون پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM