1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمال مغربی پاکستان: عسکریت پسندوں کے حملے میں پانچ افراد ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں دو گاڑیوں پر عسکریت پسندوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک اور واقعے میں ملک کے جنوب مغرب میں مسلح افراد نے نیٹو کے ایک سپلائی ٹرک کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا۔

default

سینئر سرکاری افسر صاحبزادہ محمد انیس کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے 50 کلومیٹر دور واقع قبائلی علاقے جواکائی میں پیش آنے والے واقعے میں عسکریت پسندوں نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں 11 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔

علاقائی پولیس سربراہ محمد مسعود خان آفریدی نے خبر رساں ادارے AFP سے بات چیت میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ آفریدی کے بقول یہ حملہ ’عسکریت پسندوں کی کارروائی‘ ہو سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی گروپ یا تنظیم کی جانب سے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

Anschlag auf den Presse-Klub von Peschawar

صوبہ خیبر پختونخواہ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے

ایک اور واقعے میں صوبہ بلوچستان کے علاقے دشت میں موٹرسائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے نیٹو کے لیے رسد کی فراہمی کرنے والے ایک سپلائی ٹرک پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ٹرک ڈرائیور مارا گیا۔ صوبائی سیکرٹری داخلہ ظفر اللہ بلوچ کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 40 کلومیٹر مشرق میں واقع اس علاقے میں جنوبی افغان صوبے قندھار کو جانے والے ایک نیٹو سپلائی ٹرک کو نشانہ بنایا گیا۔ بلوچ کے مطابق مسلح افراد نے تیل سے بھرے اس ٹرک پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اس آئل ٹینکر سے تیل رسنا شروع ہو گیا، تاہم اسے آگ نہ لگی۔

اس حملے کی ذمہ داری بھی کسی گروپ نے قبول نہیں کی تاہم ماضی میں طالبان عسکریت پسند ہی نیٹو ٹرکوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

پاکستان کو افغانستان میں متعین ایک لاکھ 30 ہزار غیر ملکی فوجی دستوں تک ساز و سامان اور رسد کی فراہمی کے لیے ایک اہم سپلائی روٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کی طرف سے نیٹو ٹرکوں پر حملے پاکستان میں معمول کی بات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں متعین اپنی افواج کے لیے متبادل سپلائی روٹ کے طور پر وسطی ایشیائی ممالک کو استعمال کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ پینٹا گون کے مطابق رواں برس کے اختتام تک افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے ساز و سامان اور رسد کی فراہمی کا 50 فیصد سے زائد کام وسطی ایشیائی ممالک کے ذریعے ہی کیا جائے گا۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM