1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمال مشرقی حلب میں باغی پسپا ہو گئے

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق مشرقی حلب پر قابض باغی شمالی محاذوں پر پسپا ہو گئے ہیں۔ حلب کی بازیابی کے لیے گزشتہ تیرہ دنوں سے جاری شامی فورسز کی کارروائی میں اس پیش قدمی کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سیرئین آبزرویٹری کے حوالے سے بتایا ہے کہ شامی فورسز نے کامیاب پیش قدمی کرتے ہوئے مشرقی حلب کے شمالی محاذوں پر باغیوں کو مکمل طور پر پسپا کر دیا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ شامی سپاہیوں نے شمالی محاذ پر باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

شام: حکومتی فوج کی مشرقی حلب پر چڑھائی، شہری فرار

تازہ فضائی حملے، حلب میں 141 شہری ہلاک

حلب میں بدترین تباہی، اقوام متحدہ کے مندوب شام میں

حلب کے اہم اضلاع الصاخور، شیخ خضر اور حیدریہ میں باغیوں کی پسپائی کی وجہ سے مشرقی حلب پر قابض باغی اب دو علاقوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں۔ دوسری طرف کرد جنگجوؤں نے بھی پیش قدمی کی ہے اور شیخ فارس کے علاقے میں ان باغیوں کو مزید پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کرد جنگجو اگرچہ دمشق حکومت کے باقاعدہ اتحادی نہیں ہیں لیکن باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ شامی دستوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

شامی میڈیا اور آبزرویٹری دونوں نے ہی کہا ہے کہ شامی فورسز نے حلب کا ایک تہائی علاقہ بازیاب کرا لیا ہے۔ شام میں صدر بشار الاسد کے حامی ایک اخبار ’الوطن‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی حلب کی بازیابی کے آپریشن میں ملکی افواج بہت تیزی سے کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں۔

حکام کے مطابق انتہا پسند گروہ کے خلاف جاری اس کارروائی کی وجہ سے مزید دس ہزار شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق گزشتہ تیرہ دنوں سے جاری اس عسکری کارروائی میں روسی فضائیہ بھی بمباری کر رہی ہے۔ عبدالرحمان کے مطابق شامی فورسز نے گزشتہ کچھ دنوں کے دوران حلب کے نواح میں واقع دس علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ابھی بھی تقریبا ڈھائی لاکھ افراد اس جنگ زدہ علاقے میں محصور ہیں، جنہیں فوری امدادی کی ضرورت ہے۔ شام کی اس پانچ سالہ خانہ کی وجہ سے اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق کم ازکم تین لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

DW.COM