1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’شمالی کوریا ہمارے لئے براہ راست خطرہ بن رہا ہے‘، گیٹس

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا بین البراعظمی میزائل بنانے کی جانب گامزن ہے جس کے سبب اب یہ ملک امریکہ کے لئے ’براہ راست‘ خطرہ بنتا جارہا ہے۔

default

واشنگٹن کے مقتدر حلقے طویل عرصے سے شمالی کوریا کے میزائل پروگرام سے متعلق تشویش میں مبتلا ہیں۔ وزیر دفاع گیٹس کی جانب سے یہ تازہ بیان اُن کے دورہء بیجنگ کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

امریکی وزیر نے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کو کم کرنے کے سلسلے میں چینی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر بیجنگ پر زور دیا کہ وہ کمیونسٹ کوریا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی سے روکے۔

Robert Gates in Peking Flash-Galerie

امریکی وزیر دفاع چین کی مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے کا معائنہ کرتے ہوئے

خیال رہے کہ چین کو شمالی کوریا کا سر فہرست معیشی و سفارتی معاون تصور کیا جاتا ہے۔ چینی صدر ہوجن تاؤ کے ساتھ ملاقات کے بعد گیٹس نے کہا، ’’ جس انداز سے شمالی کوریا اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو ترقی دے رہا ہے اس سے وہ امریکہ کے لئے براہ راست خطرہ بنتا جارہا ہے۔‘‘

جب اُن سے پوچھا گیا کہ آیا شمالی کوریا امریکہ کے لئے فوری خطرہ ہے؟ تو ان کا جواب تھا ، ’’ بات یہ نہیں کہ اگلے پانچ سال میں اُس کے پاس بین البراعظمی میزائلوں کا ڈھیر لگ جائے گا بلکہ میرے خیال میں اس عرصے کے دوران شمالی کوریا بین البراعظمی میزائل بنانے کے قابل ہوجائے گا۔‘‘

تجزیہ نگاروں کے مطابق گیٹس نے جو بات اب عام کی ہے وہ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے 2001ء کے اندازوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ اُس وقت یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ 15 سال کے اندر امریکہ کو شمالی کوریا اور ایران سے ممکنہ طور پر بین البراعظمی میزائل حملے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

واشنگٹن کی ہیریٹیج فاؤنڈیشن سے وابستہ تجزیہ نگار بروس کلنگر کے بقول عین ممکن ہے کہ رابرٹ گیٹس کا تازہ بیان، نئی انٹیلی جنس رپورٹوں پر مبنی ہو۔

Nordkorea Militärparade in Pyongyang

شمالی کوریا کی فوج ایک عسکری پریڈ میں میزائل کی نمائش کرتے ہوئے

امریکی نیول وار کالج سے وابستہ نکولاس گوسڈیو امریکی وزیر دفاع کے بیان میں چین کے لئے ایک اشارہ دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اب بیجنگ پر یہ واضح کر رہا ہے کہ چونکہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی شمالی کوریا کو براہ راست خطرہ تصور کر رہے ہیں لہذا وہ اس کی مبینہ پشت پناہی ترک کردے۔ جنوبی کوریا کے انٹیلی جنس حلقوں کا دعویٰ ہے کہ شمالی کوریا کی موجودہ عسکری صلاحیت کے اعتبار سے جاپان میں موجود امریکی فوجی اڈہ اُس کے نشانے پر ہے۔

جزیرہ نما کوریا میں کچھ عرصہ قبل جو کشیدگی بڑھی تھی اُس میں اب قدرے کمی دیکھی جارہی ہے۔ نئے سال کے آغاز کے بعد سے شمالی کوریا متعدد بار جنوب کو مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے جسے جنوب کوریائی حکام محض پراپیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسراعوان

DW.COM