1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے معدنی ذخائر میں چین کی دلچسپی

کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیوں کی شکار ریاست شمالی کوریا جلد ہی چین کو اپنے یہاں قدرتی وسائل کے وسیع ذخائر کی تلاش سے متعلق ٹھیکے دینے والی ہے۔

default

Yonhap خبر رساں ادارے نے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ضمن میں رواں ماہ ہی پیشرفت متوقع ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ 15 فروری کو بیجنگ میں ایک معاہدہ طے پاجائے گا۔

Yonhap کے مطابق دونوں کمیونسٹ ریاستیں مل کر ہانگ کانگ میں ایک نجی فرم قائم کریں گی۔ یہ انویسٹمنٹ فرم چینی سرمایہ کاروں کو اس سیکٹر کی جانب راغب کرنے کا کام کرے گی۔ جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق ان کے پڑوسی ملک شمالی کوریا میں قدرتی وسائل کے ذخائر کی مالیت چھ ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

China Afghanistan Hamid Karsai in Peking bei Hu Jintao

افغان صدر حامد کرزئی گزشتہ سال دورہ ء چین کے موقع پر میزبان صدر ہو جن تاؤ کے ہمراہ

غربت کے شکار ملک شمالی کوریا کی خواہش ہے کہ چین کے تعاون سے وہ اپنی ناتواں معیشت کو مستحکم کرسکے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر چین ہی شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی و سیاسی حلیف تصور کیا جاتا ہے۔

پیونگ یانگ حکومت اپنے متنازعہ میزائل اور جوہری پروگرام کے سبب امریکی دباؤ اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے بیجنگ پر اور زیادہ انحصار کرنے لگی ہے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین نے خطے میں سٹریٹیجک مفادات بھی حاصل کیے ہیں۔

Nordkorea - Kim Jong Il, Wang Jiarui

شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ال ملکی اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈران کے ہمراہ

دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال 3 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت ہوئی۔ چین اور شمالی کوریا کے درمیان 1954ء کے ایک معاہدے کے بعد باضابطہ تجارتی تعلقات کا آغاز ہوا تھا۔ روایتی طور پر شمالی کوریا، چین سے اناج، ٹیکسٹائل مصنوعات، کاغذ اور صابن وغیر درآمد کرتا رہا ہے جبکہ چین کو پھلوں کے علاوہ سمندری خوراک یعنی مچھلی اور جھینگا وغیرہ برآمد کرتا رہا ہے۔

تیزی سے اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن چین، افریقہ اور وسطی ایشیا میں بھی قدرتی وسائل کی دریافت سے متعلق منصوبوں میں گہری دلچسپی لے رہا ہے۔ چین نے افغانستان میں تانبے کے ذخائر کی ترقی کیلئے کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کر رکھی ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM