1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے مزید میزائیل تجربات، اقوام متحدہ کی کڑی تنقید

اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کی جانب سے کئے جانے والے ایٹمی اور میزائل تجربات کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے کڑی تنقید کےچند گھنٹوں کے بعد ہی شمالی کوریا نے مزید دو میزائلوں کا تجربہ کیا۔

default

شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی تجربے کے بعد میزائل تجربات کا سلسلہ بھی جاری ہے

شمالی کوریا نےکم فاصلے تک مار کرنے والے دو میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔ مزید تجربات سے شمالی کوریا کی ایٹمی صلاحیت اور اس بارے میں پہلے سے موجود بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اس امر کی بھرپور مذمت کے باوجود کئے گئے ان تجربات پر یورپ کی سب سے بڑی معیشت، جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

٫٫ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں اور شمالی کوریا کے اس طرح کے بلا روک ٹوک اقدامات ختم ہونے چاہئے۔‘‘

سیکیورٹی کونسل کے مطابق شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی 2006 میں منظور شدہ قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے جس میں اس ملک کے ایٹمی اور میزائل تجربات پر پابندی لگائی گئی تھی۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ شمالی کوریا کی ایٹمی صلاحیت اور اس کے بے دھڑک تجربات سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ اس حوالے سے جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ان تجربات سے وہ بہت پریشان ہیں اور امید کرتے ہیں کہ شمالی کوریا ایک بار پھر چھ قومی مذاکرات کا رخ کرے گا۔

امریکی انتظامیہ نے شمالی کوریا کے تجربات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ صدر باراک اوباما نے کہا: ’’شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پوری دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے ایک خطرہ ہیں۔ میں شمالی کوریا کے اس غیر دانشمندانہ فیصلے کی مذمت کرتا ہوں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف شمالی کوریا تنہا ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس پر اس حوالے سے عالمی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ان تجربات کی روس اور چین کے علاوہ جنوبی کوریا اور جاپان جیسے ہمارے اتحادی ملکوں نے بھی مذمت کی ہے اور اِس معاملے میں ہمارے ہم خیال ہیں۔‘‘

شمالی کوریا کے موجودہ جوہری تجربات اس نوعیت کے دوسرے تجربات ہیں۔ اِس ملک نے پہلے زیر زمین ایٹمی تجربے اکتوبر 2006ء میں کئے تھے۔ سن 2007ء میں شمالی کوریا نے عالمی دباؤ کے باعث ایندھن کے بدلے اپنے جوہری ری ایکٹر کو بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔